حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا العبّاس بن محمد الدُّورِي، حَدَّثَنَا أبو النَّضْر، حَدَّثَنَا أبو الأَحوَص، عن زيد العَمِّي، عن أبي الصِّدّيق الناجِيّ، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ: "أبو هريرةَ وِعاءُ العِلْم" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6159 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6159 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابوہریرہ علم کا برتن ہیں۔“
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعمَري، حَدَّثَنَا عبد الرحمن (2) بن صالح الأَزْدي، حَدَّثَنَا خالد بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص، عن أبيه، عن عائشة: أنها دَعَتْ أبا هريرة فقالت له: يا أبا هريرةَ، ما هذه الأحاديثُ التي تَبلُغُنا أنك تحدِّث بها عن النَّبِيِّ ﷺ؟ هل سمعتَ إِلَّا ما سَمِعْنا، وهل رأيتَ إلَّا ما رأَيْنا؟ قال: يا أُمَّاه، إنه كان يَشغلُكِ عن رسول الله ﷺ المِرآةُ والمُكحُلَةُ والتصنُّعُ لرسول الله ﷺ، وإني واللهِ ما كان يَشغَلُني عنه شيء (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6160 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6160 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا خالد بن سعید بن عمرو بن سعید بن العاص اپنے والد سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان سے کہا: ”اے ابوہریرہ! یہ کیسی احادیث ہیں جو ہمیں معلوم ہو رہا ہے کہ تم نبی کریم ﷺ کے حوالے سے بیان کرتے ہو؟ کیا تم نے وہی کچھ نہیں سنا جو ہم نے سنا اور وہی کچھ نہیں دیکھا جو ہم نے دیکھا؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اے امی جان! آپ کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (زیادہ وقت گزارنے سے) آئینہ، سرمہ دانی اور رسول اللہ ﷺ کے لیے بناؤ سنگھار بھی مصروفیت ہوتی تھی (جس کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ بہت سارے اقوال اور افعال کا آپ کو پتا نہ چلتا ہو لیکن)، جبکہ اللہ کی قسم! مجھے آپ ﷺ کی رفاقت سے کوئی چیز مشغول نہیں رکھتی تھی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔