المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ وِعَاءَ الْعِلْمِ باب: ابو ہریرہ علم کا خزانہ تھے
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعمَري، حَدَّثَنَا عبد الرحمن (2) بن صالح الأَزْدي، حَدَّثَنَا خالد بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص، عن أبيه، عن عائشة: أنها دَعَتْ أبا هريرة فقالت له: يا أبا هريرةَ، ما هذه الأحاديثُ التي تَبلُغُنا أنك تحدِّث بها عن النَّبِيِّ ﷺ؟ هل سمعتَ إِلَّا ما سَمِعْنا، وهل رأيتَ إلَّا ما رأَيْنا؟ قال: يا أُمَّاه، إنه كان يَشغلُكِ عن رسول الله ﷺ المِرآةُ والمُكحُلَةُ والتصنُّعُ لرسول الله ﷺ، وإني واللهِ ما كان يَشغَلُني عنه شيء (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6160 - صحيحسیدنا خالد بن سعید بن عمرو بن سعید بن العاص اپنے والد سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان سے کہا: ”اے ابوہریرہ! یہ کیسی احادیث ہیں جو ہمیں معلوم ہو رہا ہے کہ تم نبی کریم ﷺ کے حوالے سے بیان کرتے ہو؟ کیا تم نے وہی کچھ نہیں سنا جو ہم نے سنا اور وہی کچھ نہیں دیکھا جو ہم نے دیکھا؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اے امی جان! آپ کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (زیادہ وقت گزارنے سے) آئینہ، سرمہ دانی اور رسول اللہ ﷺ کے لیے بناؤ سنگھار بھی مصروفیت ہوتی تھی (جس کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ بہت سارے اقوال اور افعال کا آپ کو پتا نہ چلتا ہو لیکن)، جبکہ اللہ کی قسم! مجھے آپ ﷺ کی رفاقت سے کوئی چیز مشغول نہیں رکھتی تھی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ب) میں تحریف ہو کر نام 'عبد اللہ' ہو گیا ہے۔
(3) إسناده حسن من أجل عبد الرحمن الأزدي وشيخه خالد بن سعيد. وأخرجه بنحوه ابن سعد في "الطبقات" 2/ 314 و 5/ 239 - ومن طريقه ابن عساكر 67/ 353 - من طريقين عن عمرو بن يحيى بن سعيد الأُموي، عن جدِّه سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص، وعمرو ثقة.
درجۂ حدیث: عبد الرحمن الازدی اور ان کے استاد خالد بن سعید کی وجہ سے یہ سند 'حسن' ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے 'الطبقات' (2/ 314) میں اور ابن عساکر نے عمرو بن یحییٰ الاموی کے طریق سے روایت کیا ہے، اور عمرو ایک ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه كذلك ابن عساكر 67/ 353 من طريق إسحاق بن سعيد بن عمرو، عن أبيه.
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے اسحاق بن سعید بن عمرو عن ابیہ کی سند سے بھی روایت کیا ہے۔