کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا کعب بن عجرہ انصاری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
أخبرنا أبو نعيم محمد بن عبد الرحمن الغِفَارِي بمَرْوٍ، حَدَّثَنَا عَبْدان بن محمد بن عيسى الحافظ، قال: سمعتُ أحمد بن زُهير يقول: كعبُ بن عُجْرة بن عَدِيّ بن عُبيدِ (2) الحارث بن عمرو بن عَوف بن غَنْم بن سُوَادٍ (3)، ويقال لآبائه: القَواقِل، وكان أحرَمَ من الشام حين خَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ إلى الحُديبيَة؛ يريد العُمرةَ، فوافق قُدومُه خروجَ النَّبِيّ ﷺ فخَرَجَ معه. وكعبُ بن عُجْرة حَلِيفُ بني عَوف بن الحارث بن الخَزرَج (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا کعب بن عجرہ انصاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔ احمد بن زہیر سے روایت ہے کہ کعب بن عجرہ بن عدی انصاری، جن کے آباؤ اجداد کو ”القواقل“ کہا جاتا تھا، انہوں نے اس وقت شام سے احرام باندھا جب نبی کریم ﷺ عمرہ کے ارادے سے حدیبیہ کی طرف نکلے تھے، ان کی آمد نبی ﷺ کی روانگی کے وقت ہوئی تو وہ آپ ﷺ کے ساتھ ہو گئے، کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بنو عوف بن حارث کے حلیف تھے۔
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حَدَّثَنَا أنس بن عِيَاض، حدثني سعد بن إسحاق بن كعب بن عُجْرة، عن أبي سعيد المَقبُري، عن أبي ثُمامةَ (2) قال: لَقِيتُ كعبَ بن عُجْرة فقلتُ: يا أبا محمد، ما الذي أمرَك رسولُ الله ﷺ زَمَنَ الحُديبيةِ في إحرامِك؟ فقال: قال لي رسولُ الله ﷺ: "احلِقْ، احلِقْ" (3).
حافظ طلحہ بابر
ابو ثمامہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور پوچھا: اے ابو محمد! رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے موقع پر آپ کے احرام کی حالت میں سر کی تکلیف (جوئیں پڑنے) کے بارے میں کیا حکم دیا تھا؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا: ”سر منڈوا لو، سر منڈوا لو۔“
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن رُسْتَهْ، حَدَّثَنَا سليمان بن داود، حَدَّثَنَا محمد بن عمر، قال مات كعبُ بن عُجرةَ بالمدينة سنةَ اثنتين وخمسين وهو يومئذٍ ابن خمسِ وسبعين سنة.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر سے روایت ہے کہ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی وفات مدینہ منورہ میں 52 ہجری میں ہوئی اور اس وقت ان کی عمر پچھتر سال تھی۔