حدیث نمبر: 6143
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا علي بن الحسن الهِلالي، حَدَّثَنَا مُعلَّى بن أَسَد، حَدَّثَنَا وُهيب، عن عبد الله عثمان بن خُثَيم، عن عبد الرحمن بن سابِط، عن جابر بن عبد الله، قال: قال رسولُ الله ﷺ لكعب بن عُجْرةَ: "يا كعب بن عُجْرة، إني أُعيذُك بالله من إمارة السُّفهاء" قال: يا رسولَ الله، وما إمارةُ السُّفهاء؟ قال: "أُمراءُ يكونونَ من بَعدي، من دَخَل عليهم فصدَّقهم بكذِبِهم، وأعانَهم على ظُلمِهم، فليس منِّي ولستُ منه، ولن يَرِدَ عليَّ الحوضَ" (1). ذكرُ مناقب أبي قَتَادة الأنصاري ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6030 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے کعب بن عجرہ! میں تمہیں بیوقوفوں کی حکمرانی سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں،“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بیوقوفوں کی حکمرانی کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو میرے طریقے پر نہیں چلیں گے، پس جو ان کے پاس گیا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی تو اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے، اور وہ ہرگز میرے پاس حوضِ کوثر پر نہیں آ سکے گا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6143
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي من أجل عبد الله بن عثمان بن خثيم. وهيب: هو ابن خالد.» [ترقيم الرساله 6143] [ترقيم الشركة 6085] [ترقيم العلميه 6030]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي من أجل عبد الله بن عثمان بن خثيم. وهيب: هو ابن خالد.
درجۂ حدیث: یہ "صحیح لغیرہ" ہے اور عبد اللہ بن عثمان بن خثیم کی وجہ سے یہ سند "قوی" ہے۔
اہم نکتہ: وہیب سے مراد وہیب بن خالد ہیں۔
وأخرجه أحمد 23/ (15284) عن عفان بن مسلم، عن وهيب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (23/ 15284) میں عفان بن مسلم عن وہیب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد سلف برقم (266).
نوٹ / توضیح: یہ پہلے حدیث نمبر (266) پر گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6143 سے ماخوذ ہے۔