المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - باب: سیدنا کعب بن عجرہ انصاری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 6141
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حَدَّثَنَا أنس بن عِيَاض، حدثني سعد بن إسحاق بن كعب بن عُجْرة، عن أبي سعيد المَقبُري، عن أبي ثُمامةَ (2) قال: لَقِيتُ كعبَ بن عُجْرة فقلتُ: يا أبا محمد، ما الذي أمرَك رسولُ الله ﷺ زَمَنَ الحُديبيةِ في إحرامِك؟ فقال: قال لي رسولُ الله ﷺ: "احلِقْ، احلِقْ" (3).
حافظ طلحہ بابر
ابو ثمامہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور پوچھا: اے ابو محمد! رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے موقع پر آپ کے احرام کی حالت میں سر کی تکلیف (جوئیں پڑنے) کے بارے میں کیا حکم دیا تھا؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا: ”سر منڈوا لو، سر منڈوا لو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: أُمامة، والصواب ما أثبتنا، وهو أبو ثمامة الحناط.
اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہ "امامہ" تحریف ہو گیا ہے، درست نام "ابو ثمامہ الحناط" ہے۔
(3) أصل الحديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبي ثمامة الحناط، فلم يرو عنه سوى سعد بن إسحاق وسعيد المقبري - وقيل: أبو سعيد المقبري - ولم يوثقه غير ابن حبان، وقال الدارقطني: لا يعرف، يُترَك.
درجۂ حدیث: حدیث کی اصل تو "صحیح" ہے مگر یہ مخصوص سند ابو ثمامہ الحناط کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ان سے صرف سعد بن اسحاق اور سعید المقبری نے روایت کی ہے، ابن حبان کے علاوہ کسی نے ان کی توثیق نہیں کی جبکہ امام دارقطنی کے بقول یہ نا معلوم ہیں اور ان کی روایت چھوڑی جائے گی۔
قلنا: لكن روي خبر كعب بن عجرة وقصة إحرامه وأمر النَّبِيّ ﷺ له بالحَلْق بأسانيد صحيحة من غير وجه عن كعب، أخرجه أحمد 30 / (18107) و (18109) و (18116)، والبخاري (1814) و (1816) و (4190)، ومسلم (1201)، وأبو داود (1856) و (1858)، والترمذي (953) و (2974)، وابن ماجه (3080)، والنسائي (4095) و (4098) و (10963)، وابن حبان (3980) و (3985) و (3987).
درجۂ حدیث: ہم کہتے ہیں کہ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے احرام اور آپ ﷺ کی جانب سے انہیں سر منڈوانے (فدیہ) کے حکم کا قصہ دیگر کئی صحیح اسانید سے مروی ہے، جسے امام احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ، نسائی اور ابن حبان نے اپنی کتب میں روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہ "امامہ" تحریف ہو گیا ہے، درست نام "ابو ثمامہ الحناط" ہے۔
(3) أصل الحديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبي ثمامة الحناط، فلم يرو عنه سوى سعد بن إسحاق وسعيد المقبري - وقيل: أبو سعيد المقبري - ولم يوثقه غير ابن حبان، وقال الدارقطني: لا يعرف، يُترَك.
درجۂ حدیث: حدیث کی اصل تو "صحیح" ہے مگر یہ مخصوص سند ابو ثمامہ الحناط کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ان سے صرف سعد بن اسحاق اور سعید المقبری نے روایت کی ہے، ابن حبان کے علاوہ کسی نے ان کی توثیق نہیں کی جبکہ امام دارقطنی کے بقول یہ نا معلوم ہیں اور ان کی روایت چھوڑی جائے گی۔
قلنا: لكن روي خبر كعب بن عجرة وقصة إحرامه وأمر النَّبِيّ ﷺ له بالحَلْق بأسانيد صحيحة من غير وجه عن كعب، أخرجه أحمد 30 / (18107) و (18109) و (18116)، والبخاري (1814) و (1816) و (4190)، ومسلم (1201)، وأبو داود (1856) و (1858)، والترمذي (953) و (2974)، وابن ماجه (3080)، والنسائي (4095) و (4098) و (10963)، وابن حبان (3980) و (3985) و (3987).
درجۂ حدیث: ہم کہتے ہیں کہ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے احرام اور آپ ﷺ کی جانب سے انہیں سر منڈوانے (فدیہ) کے حکم کا قصہ دیگر کئی صحیح اسانید سے مروی ہے، جسے امام احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ، نسائی اور ابن حبان نے اپنی کتب میں روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6141 سے ماخوذ ہے۔