حدیث نمبر: 6076
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفّان العامِريّ، حَدَّثَنَا حسن (4) بن عطية، حَدَّثَنَا يحيى بن سَلَمة بن كُهَيل، عن أبيه، عن محمد بن علي، عن ابن عبّاس قال: قال أبو موسى الأشعري: إنَّ عليًا أولُ من أسلَمَ مع رسول الله ﷺ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. والغَرَضُ في إخراجه براءةُ ساحةِ أبي موسى من نَقْصٍ عليٍّ، ثم روايةُ ابن عبّاس عنه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک علی پہلے شخص ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اسلام لائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسے یہاں ذکر کرنے کا مقصد سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں کسی بھی قسم کی تنقیص سے برأت ظاہر کرنا ہے اور یہ کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے روایت کی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6076
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، يحيى بن سلمة بن كهيل متروك. محمد بن علي: هو ابن عبد الله بن عبّاس.» [ترقيم الرساله 6076] [ترقيم الشركة 6018]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) تحرّف في (ز) و (م) و (ب) إلى: حسين، وضبب عليه في (ز)، والمثبت من (ص) على الصواب، وهو الحسن بن عطية بن نجيح القرشي.
اہم نکتہ: نسخہ (ز، م، ب) میں یہاں "حسین" لکھا گیا ہے، جبکہ نسخہ (ص) میں موجود لفظ ہی درست ہے، اور وہ "الحسن بن عطیہ بن نجیح القرشی" ہیں۔
(1) إسناده ضعيف جدًّا، يحيى بن سلمة بن كهيل متروك. محمد بن علي: هو ابن عبد الله بن عبّاس.
درجۂ حدیث: اس کی سند "انتہائی ضعیف" ہے کیونکہ یحییٰ بن سلمہ بن کہیل "متروک" راوی ہے۔
اہم نکتہ: محمد بن علی سے مراد محمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6076 سے ماخوذ ہے۔