المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
مَا قَدِمَ الْبَصْرَةَ رَاكِبٌ خَيْرٌ لِأَهْلِهَا مِنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ باب: اہلِ بصرہ کے لیے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بہتر کوئی سوار بصرہ نہیں آیا
حدیث نمبر: 6075
أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حَدَّثَنَا الفضل بن محمد الشَّعراني، حَدَّثَنَا أحمد بن حنبل ﵁، حَدَّثَنَا أبو داود، أخبرنا شُعبة، عن أبي التَّيَّاح قال: سمعتُ الحسنَ يقول: ما قَدِمَ البصرةَ راكبٌ خيرٌ لأهلها من أَبي موسى الأشعري (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5962 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بصرہ والوں کے لیے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بہتر کوئی سوار (شخصیت) نہیں آئی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. أبو داود: هو سليمان بن داود الطيالسي، وأبو التياح: هو يزيد بن حميد الضبعي. وهو في "فضائل الصحابة" لأحمد بن حنبل (1685).
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
اہم نکتہ: ابو داؤد سے مراد سلیمان بن داؤد الطیالسی اور ابو التیاح سے مراد یزید بن حمید الضبعی ہیں۔
حوالہ / مصدر: یہ امام احمد کی "فضائل الصحابہ" (1685) میں بھی موجود ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
اہم نکتہ: ابو داؤد سے مراد سلیمان بن داؤد الطیالسی اور ابو التیاح سے مراد یزید بن حمید الضبعی ہیں۔
حوالہ / مصدر: یہ امام احمد کی "فضائل الصحابہ" (1685) میں بھی موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6075 سے ماخوذ ہے۔