کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ابو موسیٰ عبد اللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق قال: أبو موسى الأشعريُّ عبد الله بن قيس، حليف آل عُتبة بن ربيعة بن عبد شمس (1).
حافظ طلحہ بابر
ابن اسحاق سے روایت ہے کہ سیدنا ابو موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن قیس ہے اور وہ آلِ عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس کے حلیف تھے۔
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن أحمد الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر قال: أبو موسى الأشعري اسمه عبد الله بن قيس بن سُليم بن حَضَّار بن حَرْب (2) بن عامر بن بَكْر بن عامر بن عَذَر بن وائل بن ناجية بن الجُماهِر بن الأشعَر، وهو نَبْت بن أُدَد بن يَشْجُب بن يَعْرُب بن قَحْطان. وأم أبي موسى ظَبْيةُ بنت وَهْب بن عَتِيك، وقد كانت أسلمت، وماتت بالمدينة. وكان أبو موسى قَدِمَ مكة فحالف أبا أُحَيْحة سعيدَ بن العاص، وأسلم بمكة، وهاجر إلى أرض الحبشة، ثم قَدِمَ مع أهل السَّفينتين (3) ورسول الله ﷺ بخَيبر (4).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر سے روایت ہے کہ سیدنا ابو موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن قیس بن سلیم بن حضار بن حرب ہے، ان کا نسب اشعر تک پہنچتا ہے جو کہ یشجب بن یعرب بن قحطان کی نسل سے ہیں۔ ان کی والدہ ظبیہ بنت وہب بن عتیک تھیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ سیدنا ابو موسٰی رضی اللہ عنہ مکہ آئے تو سعید بن عاص کے حلیف بنے، وہیں مکہ میں اسلام لائے، حبشہ کی طرف ہجرت کی اور پھر دو کشتیوں والوں کے ساتھ اس وقت مدینہ پہنچے جب رسول اللہ ﷺ خیبر میں تشریف فرما تھے۔
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق قال: كان أبو موسى الأشعريُّ ممَّن هاجر إلى أرض الحبشة، وأقام بها حتَّى بَعَثَ النَّبِيُّ ﷺ إلى النجاشيِّ عمرو بن أُميةَ الضَّمْري، فحملهم في سفينتين، فقدم بهم عليه بخَيبرَ بعد الحُديبية (1).
حافظ طلحہ بابر
ابن اسحاق سے روایت ہے کہ سیدنا ابو موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے ارضِ حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور وہ وہیں مقیم رہے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے عمرو بن امیہ ضمری کو نجاشی کی طرف بھیجا، تو وہ انہیں دو کشتیوں میں سوار کر کے لے آئے اور وہ صلحِ حدبیہ کے بعد فتحِ خیبر کے موقع پر آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔