المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي مُوسَى عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيِّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - باب: سیدنا ابو موسیٰ عبد اللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 6067
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق قال: كان أبو موسى الأشعريُّ ممَّن هاجر إلى أرض الحبشة، وأقام بها حتَّى بَعَثَ النَّبِيُّ ﷺ إلى النجاشيِّ عمرو بن أُميةَ الضَّمْري، فحملهم في سفينتين، فقدم بهم عليه بخَيبرَ بعد الحُديبية (1).
حافظ طلحہ بابر
ابن اسحاق سے روایت ہے کہ سیدنا ابو موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے ارضِ حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور وہ وہیں مقیم رہے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے عمرو بن امیہ ضمری کو نجاشی کی طرف بھیجا، تو وہ انہیں دو کشتیوں میں سوار کر کے لے آئے اور وہ صلحِ حدبیہ کے بعد فتحِ خیبر کے موقع پر آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) وانظر "سيرة ابن هشام" 1/ 324. وانظر تعليق ابن عبد البر عليه في "الاستيعاب" ص 851.
حوالہ / مصدر: اس کی مزید تفصیل کے لیے "سیرت ابن ہشام" (1/ 324) اور ابن عبد البر کا اس پر تبصرہ "الاستیعاب" (ص 851) ملاحظہ فرمائیں۔
حوالہ / مصدر: اس کی مزید تفصیل کے لیے "سیرت ابن ہشام" (1/ 324) اور ابن عبد البر کا اس پر تبصرہ "الاستیعاب" (ص 851) ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6067 سے ماخوذ ہے۔