حدیث نمبر: 6064
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا مُصعب بن عبد الله الزُّبيري قال: وجَرِير بن عبد الله بن مالك بن نَصْر بن ثَعلبَة بن جُشَم بن عُوَيف بن شَلِيل بن حَزِيمة بن سَكَن (2) بن علي بن مالك بن زيد بن قيس (3) بن عَبْقَر (4) بن أَنْمار. كان قد أقام في الفتنة بقَرْقِيسِياء، ثم انتقل منها إلى الكوفة، وبها توفي ﵁ سنة إحدى وخمسين. ذكرُ مناقب أبي موسى عبد الله بن قَيْس الأشعَري ﵁ -
حافظ طلحہ بابر

مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے کہ سیدنا جریر بن عبداللہ بن مالک بن نصر بجلی رضی اللہ عنہ فتنہ کے ایام میں قرقیسیاء میں مقیم رہے، پھر وہاں سے کوفہ منتقل ہو گئے اور وہیں سن 51 ہجری میں ان کی وفات ہوئی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6064
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6064] [ترقيم الشركة 6006]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) كذا في النسخ الخطية، والذي في جميع مصادر ترجمته: حرب.
اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہ اسی طرح (غلط) لکھا ہے، جبکہ اس راوی کے تمام مآخذ اور تراجم میں درست نام "حرب" ہے۔
(3) في بعض المصادر: نذير بن قسر، وفي بعضها كما هنا، فلا يبعد أن يكون لعبقر ولدان: قيس وقسر، وحينئذ يكون نذير بن قسر، وزيد بن قيس، والله تعالى أعلم.
فنی نکتہ / علّت: بعض مصادر میں "نذیر بن قسر" ہے اور بعض میں اسی طرح ہے جیسے یہاں مذکور ہے۔ یہ بعید نہیں کہ عبقر کے دو بیٹے ہوں: قیس اور قسر، ایسی صورت میں نذیر، قسر کے بیٹے ہوں گے اور زید، قیس کے۔ واللہ اعلم۔
(4) في (ص) و (م): عسر، والمثبت من (ب)، وهو الصواب الموافق لمصادر ترجمته.
اہم نکتہ: نسخہ (ص) اور (م) میں یہ لفظ "عسر" لکھا گیا ہے، جبکہ نسخہ (ب) میں موجود لفظ ہی درست ہے جو راوی کے دیگر تراجم کے موافق ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6064 سے ماخوذ ہے۔