حَدَّثَنَا محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا الفضل بن محمد الشَّعراني، حَدَّثَنَا سعيد بن أبي مريم قال: أخبرنا يحيى بن أيوب، عن عُبيد الله بن زَحْر، عن علي بن يزيد، عن القاسم، عن (1) أبي أُمامة، عن أبي أيوبَ الأنصاريِّ قال: نَزَلَ عليَّ رسول الله ﷺ شهرًا، فنَقَّبتُ في عملِهِ كلِّه، فرأيتُه إذا زالت - أو زاغتِ الشمس، أو كما قال - إن كان في يدِهِ عَمَلُ الدنيا رَفَضَه، وإن كان نائمًا فكأنما يُوقَظُ له، فيقومُ فيغتسلُ أو يتوضأ، ثم يَركَع أربعَ رَكَعَاتٍ يُتِمُّهِنَّ ويُحَسِّنُهُنَّ ويتمكَّنُ فيهِنَّ، فلمّا أراد أن ينطلَق قلت: يا رسولَ الله، مَكَثتَ عندي شهرًا، ووَدِدْتُ أنكَ مكثتَ أكثرَ، من ذلك، فنقَّبتُ في عملك كلِّه، فرأيتُك إذا زالت الشمسُ - أو زاغت - فإن كان في يدكَ عملُ الدنيا رفضتَه وأخذتَ في الصلاة، فقال رسول الله ﷺ: "إِنَّ أبوابَ السماء يُفتَّحُنَ في تلك الساعة، فلا يُرتَجْنَ أبوابُ السماء وأبوابُ الجنة حتَّى تُصَلَّى هذه الصلاةُ، فأحببتُ أن يَصعَد لي إلى ربي في تلك الساعات خيرٌ، وأن يُرفَعَ عملي في أولِ عملِ العابدين" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5940 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5940 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ایک ماہ تک میرے ہاں قیام پذیر رہے، میں نے آپ ﷺ کے معمولات کا گہری نظر سے مشاہدہ کیا تو دیکھا کہ جب سورج ڈھل جاتا تو آپ ﷺ کے ہاتھ میں دنیا کا جو بھی کام ہوتا اسے چھوڑ دیتے، اور اگر آپ ﷺ سو رہے ہوتے تو گویا آپ ﷺ کو اس وقت کے لیے بیدار کر دیا جاتا، پھر آپ ﷺ اٹھتے، غسل فرماتے یا وضو کرتے اور پھر چار رکعتیں ادا فرماتے جنہیں آپ ﷺ نہایت عمدگی اور اطمینان سے مکمل فرماتے، جب آپ ﷺ کی روانگی کا وقت قریب آیا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ایک ماہ میرے پاس مقیم رہے اور میری خواہش تھی کہ آپ اس سے بھی زیادہ عرصہ قیام فرماتے، میں نے آپ ﷺ کے تمام معمولات پر غور کیا تو دیکھا کہ جب سورج ڈھل جاتا تو آپ ﷺ دنیاوی کام چھوڑ کر نماز میں مشغول ہو جاتے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اس گھڑی میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور آسمان اور جنت کے دروازے اس وقت تک بند نہیں کیے جاتے جب تک یہ نماز ادا نہ کر لی جائے، اس لیے مجھے یہ بات پسند ہے کہ ان لمحات میں میرا کوئی نیک عمل میرے رب کی طرف بلند ہو اور میرا عمل عبادت گزاروں کے اعمال میں سب سے پہلے پیش کیا جائے۔“
حَدَّثَنَا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله الحضرمي، حَدَّثَنَا أبو كُريب، حَدَّثَنَا فِرْدوس الأشعري، حَدَّثَنَا مسعود بن سليمان (1)، عن حَبِيب بن أبي ثابت، عن محمد بن علي بن عبد الله بن عبّاس، عن أبيه، عن ابن عبّاس: أنَّ أبا أيوب خالد بن زيد الذي كان رسولُ الله ﷺ حين هاجر إلى المدينة نزل في داره (2) غزا أرضَ الرُّوم، فمرَّ على معاوية فجَفَاه معاويةُ، ثم رجع من غزوته فجَفَاه ولم يَرفَعْ به رأسًا، قال أبو أيوب: إنَّ رسول الله ﷺ أنبأني أنَّا سنرى بعده أَثَرةً، قال معاوية: فيمَ أمرَكُم؟ قال: أمرَنا أن نصبر، قال: فاصبِروا إذًا، فأتى عبدَ الله بنَ عبّاس بالبصرة، وقد أمَّره عليٌّ عليها، فقال: يا أبا أيوب، إنِّي أريدُ أن أَخرُجَ لك من مَسكَني كما خرجتَ لرسول الله ﷺ، فأَمَرَ أهله فخرجوا، وأعطاه كلَّ شيءٍ كان في الدار، فلما كان وقتُ انطلاقه قال: حاجتُكَ؟ قال: حاجتي عطائي وثمانيةُ أَعبُدٍ يعملون في أرضي، وكان عطاؤه أربعةَ آلاف، فأضعَفَها له خمسَ مِرارٍ، وأعطاه عشرين ألفًا وأربعين عبدًا (1). قد تقدَّم هذا الحديث بإسنادٍ متّصل صحيح، وأعدتُه للزيادات فيه بهذا الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5941 - قد تقدم بإسناد صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5941 - قد تقدم بإسناد صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ایوب خالد بن زید رضی اللہ عنہ، جن کے گھر رسول اللہ ﷺ نے ہجرت مدینہ کے وقت قیام فرمایا تھا، ارضِ روم میں ایک غزوے کے لیے نکلے، پھر ان کا گزر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا تو انہوں نے ان کے ساتھ بے رخی برتی، جب وہ غزوے سے واپس آئے تو دوبارہ انہوں نے بے رخی دکھائی اور ان کی طرف توجہ نہ دی، سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے مجھے خبر دی تھی کہ ہم آپ ﷺ کے بعد اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیے جانے (اور اپنی حق تلفی) کا مشاہدہ کریں گے“، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”تو آپ ﷺ نے تمہیں کیا حکم دیا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”آپ ﷺ نے ہمیں صبر کرنے کا حکم دیا تھا“، انہوں نے کہا: ”تو پھر صبر ہی کرو“۔ اس کے بعد وہ بصرہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے جنہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وہاں کا گورنر مقرر کیا تھا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اے ابو ایوب! میں چاہتا ہوں کہ میں آپ کے لیے اپنے گھر سے اسی طرح نکل جاؤں جیسے آپ رسول اللہ ﷺ کے لیے اپنے گھر سے نکلے تھے“، چنانچہ انہوں نے اپنے اہل و عیال کو حکم دیا اور وہ گھر سے باہر آ گئے اور جو کچھ گھر میں موجود تھا وہ سب انہیں دے دیا، جب ان کی روانگی کا وقت آیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ”آپ کی کیا حاجت ہے؟“ انہوں نے کہا: ”میری ضرورت میرا وظیفہ اور آٹھ غلام ہیں جو میری زمین میں کام کریں“، ان کا وظیفہ چار ہزار تھا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے پانچ گنا کر کے بیس ہزار کر دیا اور انہیں چالیس غلام عطا فرمائے۔
یہ حدیث پہلے بھی ایک متصل صحیح سند کے ساتھ گزر چکی ہے، میں نے اسے اس میں موجود مزید تفصیلات کی وجہ سے اس سند کے ساتھ دوبارہ ذکر کیا ہے۔
یہ حدیث پہلے بھی ایک متصل صحیح سند کے ساتھ گزر چکی ہے، میں نے اسے اس میں موجود مزید تفصیلات کی وجہ سے اس سند کے ساتھ دوبارہ ذکر کیا ہے۔