المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَبْدِ اللهِ بْنِ هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ الْقُرَشِيِّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - باب: سیدنا عبد الله بن هشام بن زہرة قرشی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 6034
حَدَّثَنَا الحُسين بن الحَسن بن أيوب، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مَسَرّة، حَدَّثَنَا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حَدَّثَنَا سعيد بن أبي أيوبَ، عن أبي عَقِيل زُهْرة بن مَعبَد، عن عبد الله بن هشام - وكان قد أدركَ النَّبِيّ ﷺ: أنَّ أمَّه أتْت به النَّبِيّ ﷺ، فمسَح رأسه ودَعَا له، فكان يُضحِّي بالشاةِ الواحدة عن جَميع أهلِه (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ (جنہوں نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا تھا) سے روایت ہے کہ ان کی والدہ انہیں نبی کریم ﷺ کے پاس لائیں، تو آپ ﷺ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے (برکت کی) دعا فرمائی، وہ اپنی تمام اہل و عیال کی طرف سے (نبی کریم ﷺ کی سنت کی پیروی میں) ایک ہی بکری کی قربانی کیا کرتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه أحمد 29 / (18046)، وأخرجه كذلك البخاري (7210) عن علي بن المديني، وأبو داود (2942) عن عُبيد الله بن عمر بن مَيْسرة، ثلاثتهم (أحمد بن حنبل وابن المديني وعُبيد الله) عن عبد الله بن يزيد المقرئ بهذا الإسناد. لكن لم يذكر عُبيد الله في روايته التضحية بالشاة الواحدة.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (29/ 18046)، بخاری (رقم 7210) نے علی بن المدینی سے اور ابوداؤد (رقم 2942) نے عبید اللہ بن عمر بن میسرہ سے روایت کیا ہے۔ یہ تینوں حضرات (احمد، ابن مدینی اور عبید اللہ) اسے عبد اللہ بن یزید المقری سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
نوٹ: البتہ عبید اللہ نے اپنی روایت میں ایک بکری کی قربانی کا ذکر نہیں کیا۔
وسيأتي برقم (7746) من طريق السَّرِيّ بن خزيمة عن عبد الله بن يزيد.
نوٹ: یہ روایت آگے (حدیث نمبر 7746) پر "سری بن خزیمہ از عبد اللہ بن یزید" کے طریق سے آئے گی۔
وقد سُمِّيت أمُّ عبد الله بن هشام في سائر الروايات السابقة زينب بنت حُميد.
تحقیق: گزشتہ تمام روایات میں عبد اللہ بن ہشام کی والدہ کا نام "زینب بنت حمید" بیان کیا گیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه أحمد 29 / (18046)، وأخرجه كذلك البخاري (7210) عن علي بن المديني، وأبو داود (2942) عن عُبيد الله بن عمر بن مَيْسرة، ثلاثتهم (أحمد بن حنبل وابن المديني وعُبيد الله) عن عبد الله بن يزيد المقرئ بهذا الإسناد. لكن لم يذكر عُبيد الله في روايته التضحية بالشاة الواحدة.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (29/ 18046)، بخاری (رقم 7210) نے علی بن المدینی سے اور ابوداؤد (رقم 2942) نے عبید اللہ بن عمر بن میسرہ سے روایت کیا ہے۔ یہ تینوں حضرات (احمد، ابن مدینی اور عبید اللہ) اسے عبد اللہ بن یزید المقری سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
نوٹ: البتہ عبید اللہ نے اپنی روایت میں ایک بکری کی قربانی کا ذکر نہیں کیا۔
وسيأتي برقم (7746) من طريق السَّرِيّ بن خزيمة عن عبد الله بن يزيد.
نوٹ: یہ روایت آگے (حدیث نمبر 7746) پر "سری بن خزیمہ از عبد اللہ بن یزید" کے طریق سے آئے گی۔
وقد سُمِّيت أمُّ عبد الله بن هشام في سائر الروايات السابقة زينب بنت حُميد.
تحقیق: گزشتہ تمام روایات میں عبد اللہ بن ہشام کی والدہ کا نام "زینب بنت حمید" بیان کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6034 سے ماخوذ ہے۔