حدیث نمبر: 6033
أخبرني أحمد بن يعقوب حَدَّثَنَا موسى بن زكريا، حَدَّثَنَا خَليفة بن خَيّاط، قال: عبد الله بن هشام بن زُهْرة بن عُثمان بن عمرو بن كعب بن سعْد بن تَيْم بن مُرّة، أنه امرأةٌ من بني أسَد بن خُزَيمة يقال: اسمُها أَمَةُ الله بنت عبد شمس بن عبد يالِيلَ بن ناشِب بن غِيَرةَ (2) بن سعْد بن لَيث بن بَكْر بن عبد مَنَاةَ، ذهبتْ به أمُّه إلى النَّبِيِّ ﷺ وهو صغيرٌ، فمَسَح رأسَه، ولم يُبايِعْه (3).
حافظ طلحہ بابر

خلیفہ بن خیاط سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن ہشام بن زہرہ رضی اللہ عنہ کی والدہ (جن کا تعلق بنو اسد بن خزیمہ سے تھا اور ان کا نام امۃ اللہ بنت عبد شمس تھا) انہیں نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں لے کر آئیں جبکہ وہ ابھی چھوٹے بچے تھے، آپ ﷺ نے ان کے سر پر اپنا دستِ مبارک پھیرا لیکن (کم سنی کی وجہ سے) ان سے بیعت نہیں لی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6033
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6033] [ترقيم الشركة 5975]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرّف في نسخنا إلى: عدي والمثبت على الصواب من "طبقات خليفة" وغيره من كتب التراجم والأنساب.
فنی نکتہ: ہمارے نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عدی" بن گیا تھا۔ درست نام "طبقات خلیفہ" اور دیگر کتبِ تراجم و انساب کی مدد سے یہاں ثبت کیا گیا ہے۔
(3) وهو في "الطبقات" لخليفة بن خياط ص 18. وقد جاء عند البخاري (7210) تسمية أمّه: زينب بنت حميد، فهذا أصحُّ، وهي قُرَشيّة أسَديّة.
حوالہ / مصدر: یہ "طبقات خلیفہ بن خیاط" (صفحہ 18) میں موجود ہے۔
تحقیقِ نسب: صحیح بخاری (رقم 7210) میں ان کی والدہ کا نام "زینب بنت حمید" آیا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے، وہ قریشیہ اسدیہ تھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6033 سے ماخوذ ہے۔