کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد الرحمن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثني إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله، قال: عبد الرحمن بن عُثمانَ بن عُبيد الله بن عُثمان بن عَمرو بن كعب بن سَعْد بن تَيْم بن مُرَّةَ، وهو ابن أخي طَلْحة بن عُبيد الله، وأمُّه عُمَيرة بنت جُدْعان بن عَمرو بن كعب بن سعد بن تَيْم بن مُرّة، أختُ عبدِ الله بن جُدْعان القُرشي.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبدالرحمن بن عثمان بن عبیداللہ التیمی کے فضائل کا ذکر: وہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں، ان کی والدہ عمیرہ بنت جدعان تھیں جو قریش کے مشہور (سخی) شخصیت عبداللہ بن جدعان کی بہن تھیں۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ حدثنا محمد بن محمد بن رَجَاء، حدثنا إسحاق بن وهب العَلّاف، حدثنا يعقوب بن محمد الزُّهْري، حدثنا محمد بن طلحة التَّيْمي، حدثنا عثمان بن عبد الرحمن بن عثمان التَّيْمي، عن أبيه، قال: أسلمتُ يومَ الفتحِ، فبايَعتُ رسولَ ﷺ (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبدالرحمن بن عثمان التیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں فتح مکہ کے دن اسلام لایا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔
أخبرني محمد بن المُؤمَّل، حدثنا الفَضْل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا محمد بن طَلْحة التَّيْمي، حدثنا عُثمان بن عبد الرحمن بن عثمان، أخبرني أخي، قال: أُصيبَ أبُوكَ عبد الرحمن مع ابن الزُّبير، فأَمَر به ابن الزُّبير فدُفِن في مسجد الكعبة، ثم أمَرَّ الخيلَ عَلى قَبْره ليلًا ليَخْفَى أَثَرُه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5881 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5881 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عثمان بن عبدالرحمن اپنے بھائی سے روایت کرتے ہیں کہ تمہارے والد عبدالرحمن بن عثمان، ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ (بنو امیہ کے خلاف معرکے میں) شہید ہوئے تھے، تب ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے حکم دیا اور انہیں مسجدِ کعبہ (حرم مکہ) میں ہی دفن کر دیا گیا، پھر انہوں نے رات کے وقت ان کی قبر پر گھوڑے دوڑا دیے تاکہ اس کا نشان مٹ جائے (اور دشمن ان کی میت کی بے حرمتی نہ کر سکے)۔