کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کی وفات کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے اپنے خلاف دعا کر لی تھی
أخبرني محمد بن عبد الرحمن الغِفَاري بمَرُو، حدثنا عَبْدانُ بن محمد الحافظ، سمعتُ أحمد بن سَيّار يقول: الحَكَم بن عَمرو ورافع بن عَمرو وعطيّة (1) ابن عَمرو صَحِبُوا النبيَّ ﷺ، ثم إنَّ معاوية وَلَّى الحكمَ على خُراسان، وكان سببُ وفاتِه أنه دعا على نفسِه وهو بمَرُو في كتابٍ قُرئ عليه وَرَدَ عليه من زِيادٍ وآخرَ من مُعاوية، فاستُجيب دعوتُه ومات بمَرُو، وكان مات قبلَه بُريدةُ الأسلَميُّ، فدُفِنا جميعًا في مَقبُرة جَصِّين (2) بمَرُو مُقابلَ حَمّام أبي حَمْزة السُّكّري قد زُرْتُ قبرَيهِما (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5868 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا احمد بن سیار سے مروی ہے کہ حکم بن عمرو، رافع بن عمرو اور عطیہ بن عمرو رضی اللہ عنہم نے نبی کریم ﷺ کی صحبت پائی، پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حکم بن عمرو کو خراسان کا گورنر مقرر کیا، ان کی وفات کا سبب یہ بنا کہ جب وہ مرو میں تھے تو ان کے پاس زیاد اور پھر معاویہ رضی اللہ عنہ کا ایک خط پہنچا جسے پڑھ کر انہوں نے اپنے حق میں (موت کی) دعا کی جو قبول ہوئی اور وہ مرو میں فوت ہو گئے، ان سے قبل بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ وفات پا چکے تھے، چنانچہ یہ دونوں مرو میں جصین کے قبرستان میں ابو حمزہ سکری کے حمام کے سامنے دفن کیے گئے، میں نے ان دونوں کی قبروں کی زیارت کی ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5981
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «. رجاله ثقات، ولكن الحسن - وهو ابن أبي الحسن البصري - لم يُصرِّح بحضوره للقصة ولا بسماعه من الحكم بن عمرو الغِفاري، والغالب أنه لم يحضر القصة؛ فإنَّ الحسن البصري قدم إلى خراسان مع الربيع بن زياد الحارثي بعد موت الحكم بن عمرو، حين ولَّى زيادُ بن أبي سفيان ...» [ترقيم الرساله 5981] [ترقيم الشركة 5922] [ترقيم العلميه 5868]
فحدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر، حدثنا معاوية ابن عَمرو، عن أبي إسحاقَ الفَزَاري، عن هِشام بن حسّان، عن الحَسَن، قال: بعث زيادٌ الحكَمَ بن عمرو الغِفَاري على خُراسان، فأصابُوا غَنائمَ كثيرةً، فكتب إليه زيادٌ: أما بعدُ، فإنَّ أمير المؤمنين كَتَب أن يُصطَفى له الصفراءُ والبيضاء، ولا تَقسِمَ بين المسلمين ذَهَبًا ولا فِضّة، فكتب إليه الحَكَم أما بعدُ، فإنك كتبتَ تَذكُر كتابَ أمير المؤمنين، وإني وَجَدتُ كتابَ الله قبلَ كتابِ أميرِ المؤمنين، وإني أُقسِمُ بالله لو كانت السماواتُ والأرضُ رَتْقًا على عبدٍ فاتّقى الله، لجَعلَ له من بينِهم مَخرَجًا، والسلامُ. فأمر الحكمُ مُناديًا فنادى: أنِ اغْدُوا على فَيْئِكم، فقَسَم بينهم، وإن معاوية لما فَعَل الحكمُ في قسمة الفَيء ما فَعَل، وجَّه إليه مَن قَيَّده وحَبَسه، فمات في قُيوده ودُفن فيها، وقال: إني مُخاصِمٌ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5869 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
حسن بصری سے روایت ہے کہ زیاد نے سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کو خراسان کا گورنر بنا کر بھیجا، وہاں مجاہدین کو کثیر غنیمت حاصل ہوئی، تو زیاد نے انہیں خط لکھا: ”امیر المؤمنین (معاویہ رضی اللہ عنہ) نے لکھا ہے کہ سونا اور چاندی ان کے لیے خاص کر لیا جائے اور مسلمانوں میں تقسیم نہ کیا جائے“، حکم رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا: ”آپ نے امیر المؤمنین کے حکم کا ذکر کیا ہے جبکہ میں نے امیر المؤمنین کے حکم سے پہلے اللہ کی کتاب کو (موجود) پایا ہے، اللہ کی قسم! اگر آسمان اور زمین کسی بندے پر بند کر دیے جائیں اور وہ تقویٰ اختیار کرے تو اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے“، پھر انہوں نے منادی کروا دی کہ ”اپنی غنیمت لینے کے لیے آ جاؤ“، اور اسے لوگوں میں تقسیم کر دیا، جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے ایسے شخص کو بھیجا جس نے انہیں بیڑیاں پہنا کر قید کر دیا، چنانچہ وہ انہی بیڑیوں میں فوت ہوئے اور وہیں دفن کیے گئے، انہوں نے (وصیت کے طور پر) کہا تھا کہ: ”میں (قیامت کے دن) مقدمہ پیش کروں گا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5982
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5982] [ترقيم الشركة 5923] [ترقيم العلميه 5869]
حدثنا الشيخ أبو بكر أحمدُ بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حَجّاج بن مِنْهال، أخبرنا حمّاد بن سَلَمة، حدثنا حُميدٌ ويونس وحَبيب بن الشَّهيد، عن الحسن: أنَّ زيادًا استعمَل الحكمَ بن عَمرو الغِفَاريّ على جيش، فلَقِيَه عِمرانُ بن حُصَين في دار الإمارة فيما بينَ الناس، فقال له: تَدْري فيمَ جئتُك؟ أما تَذكُرُ أنَّ رسولَ الله ﷺ لما بَلَغَه الذي قال له أميرُه: قُمْ فقَعْ في النار، فقام الرجلُ لِيقَعَ فيها، فأُدرِكَ، فأمسَكَه، قال: فقال رسول الله ﷺ: "لو وَقَعَ فيها لدَخَلا النار، لا طاعةَ في مَعصِيَةِ الله"؟ قال الحكمُ: بَلَى، قال عمرانُ: إنما أردتُ أن أُذكِّركَ هذا الحديثَ (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5870 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
حسن بصری سے روایت ہے کہ زیاد نے سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا، تو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ انہیں دار الامارت میں لوگوں کے درمیان ملے اور پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو میں تمہارے پاس کیوں آیا ہوں؟ کیا تمہیں یاد ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو اس شخص کی اطلاع ملی جس کے امیر نے اسے آگ میں کودنے کا حکم دیا تھا اور وہ شخص کودنے کے لیے کھڑا ہو گیا تو لوگوں نے اسے پکڑ لیا؟ تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اگر وہ اس میں کود جاتا تو وہ دونوں (امیر اور مامور) آگ میں داخل ہوتے، اللہ کی نافرمانی میں (کسی کی) اطاعت جائز نہیں““، حکم رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جی ہاں (مجھے یاد ہے)“، عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے صرف تمہیں یہ حدیث یاد دلانے کا ارادہ کیا تھا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5983
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن الحسن - وهو ابن أبي الحسن البصري - لم يسمع من عمران ولا من الحكم بن عمرو، ولكن للحديث طريقان أُخريان صحيحتان. علي بن عبد العزيز: هو البغوي، وحميد: هو ابن أبي حميد الطويل، ويونس: هو ابن عُبيد.» [ترقيم الرساله 5983] [ترقيم الشركة 5924] [ترقيم العلميه 5870]