المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
كَانَ سَبَبُ مَوْتِ حَكَمِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ دَعَا عَلَى نَفْسِهِ باب: سیدنا حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کی وفات کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے اپنے خلاف دعا کر لی تھی
فحدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر، حدثنا معاوية ابن عَمرو، عن أبي إسحاقَ الفَزَاري، عن هِشام بن حسّان، عن الحَسَن، قال: بعث زيادٌ الحكَمَ بن عمرو الغِفَاري على خُراسان، فأصابُوا غَنائمَ كثيرةً، فكتب إليه زيادٌ: أما بعدُ، فإنَّ أمير المؤمنين كَتَب أن يُصطَفى له الصفراءُ والبيضاء، ولا تَقسِمَ بين المسلمين ذَهَبًا ولا فِضّة، فكتب إليه الحَكَم أما بعدُ، فإنك كتبتَ تَذكُر كتابَ أمير المؤمنين، وإني وَجَدتُ كتابَ الله قبلَ كتابِ أميرِ المؤمنين، وإني أُقسِمُ بالله لو كانت السماواتُ والأرضُ رَتْقًا على عبدٍ فاتّقى الله، لجَعلَ له من بينِهم مَخرَجًا، والسلامُ. فأمر الحكمُ مُناديًا فنادى: أنِ اغْدُوا على فَيْئِكم، فقَسَم بينهم، وإن معاوية لما فَعَل الحكمُ في قسمة الفَيء ما فَعَل، وجَّه إليه مَن قَيَّده وحَبَسه، فمات في قُيوده ودُفن فيها، وقال: إني مُخاصِمٌ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5869 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحسن بصری سے روایت ہے کہ زیاد نے سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کو خراسان کا گورنر بنا کر بھیجا، وہاں مجاہدین کو کثیر غنیمت حاصل ہوئی، تو زیاد نے انہیں خط لکھا: ”امیر المؤمنین (معاویہ رضی اللہ عنہ) نے لکھا ہے کہ سونا اور چاندی ان کے لیے خاص کر لیا جائے اور مسلمانوں میں تقسیم نہ کیا جائے“، حکم رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا: ”آپ نے امیر المؤمنین کے حکم کا ذکر کیا ہے جبکہ میں نے امیر المؤمنین کے حکم سے پہلے اللہ کی کتاب کو (موجود) پایا ہے، اللہ کی قسم! اگر آسمان اور زمین کسی بندے پر بند کر دیے جائیں اور وہ تقویٰ اختیار کرے تو اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے“، پھر انہوں نے منادی کروا دی کہ ”اپنی غنیمت لینے کے لیے آ جاؤ“، اور اسے لوگوں میں تقسیم کر دیا، جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے ایسے شخص کو بھیجا جس نے انہیں بیڑیاں پہنا کر قید کر دیا، چنانچہ وہ انہی بیڑیوں میں فوت ہوئے اور وہیں دفن کیے گئے، انہوں نے (وصیت کے طور پر) کہا تھا کہ: ”میں (قیامت کے دن) مقدمہ پیش کروں گا۔“