کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
أخبرني أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني ببُخارَى، أخبرنا أبو خَلِيفة، حدثنا محمد بن سِلَّام الجُمَحيّ، حدثني أبو عُبيدة مَعمَر بن المُثنَّى، قال: الحَكَم بن عَمرو بن مُجَدَّع بن حِذْيَم بن الحارث بن ثَعْلبة بن مُلَيلِ بن ضَمْرة بن بكر بن عبد مَناةَ بن كِنانةَ (3).
حافظ طلحہ بابر
ابو عبیدہ معمر بن مثنیٰ سے مروی ہے کہ سیدنا حکم بن عمرو بن مجدع بن حذیم بن حارث بن ثعلبہ بن ملیل بن ضمرہ بن بکر بن عبد منات بن کنانہ رضی اللہ عنہ (کا یہ نسب ہے)۔
أخبرنا أحمد بن يعقوب، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خَليفة بن خيَّاط، قال: الحكم بن عمرو بن مُجدَّع بن حِذْيَم بن حُلْوان بن الحارث بن ثَعْلبة بن مُلَيل بن ضَمْرة، وأمَّه أُمامة بنت مالك بن الأشَلّ بن عبد الله بن غِفَار، مات بخُراسان، وهو والٍ عليها سنة إحدى وخَمسين (1).
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط سے مروی ہے کہ سیدنا حکم بن عمرو بن مجدع رضی اللہ عنہ کی والدہ امامہ بنت مالک بن اشل تھیں، آپ کی وفات خراسان میں ہوئی جبکہ آپ وہاں کے گورنر تھے، یہ سن 51 ہجری کا واقعہ ہے۔
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا محمد بن عبد الله بن رُسْتَه، حدثنا سليمان بن داود، حدثنا محمد بن عُمر، قال: والحَكَم بن عمرو بن مُجدَّع بن حِذْيَم بن الحارث بن ثَعْلبة (2) بن مُلَيلِ بن ضَمْرة بن بَكر بن عبد مَناةَ بن كِنانة، وثعلبةُ أخو غِفار بن مُلَيل، صَحِبَ النبي ﷺ حتى قُبِض، ثم تحوّل إلى البصرة فنَزَلَها، فولّاه زيادُ بن أبي سفيان على خُرَاسان، فخرج إليها، ولم يَزَلْ على خُراسان حتى ماتَ بها سنةَ خمسين.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر سے مروی ہے کہ سیدنا حکم بن عمرو بن مجدع رضی اللہ عنہ، غفار بن ملیل کے بھائی ثعلبہ کی اولاد میں سے تھے، آپ نبی کریم ﷺ کی وفات تک آپ ﷺ کی صحبت میں رہے، پھر بصرہ منتقل ہو گئے اور وہاں سکونت اختیار کی، پھر زیاد بن ابی سفیان نے انہیں خراسان کا گورنر مقرر کیا، وہ وہیں رہے یہاں تک کہ سن 50 ہجری میں ان کا انتقال وہیں (خراسان میں) ہوا۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن عبد الله التاجر، حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح السَّهْمي، حدثنا محمد بن أبي السَّرِيّ العَسْقَلاني، حدثنا المُعتمِر بن سليمان، حدثني أبي، عن أبي حاجِبٍ، قال: كنتُ عند الحَكَم بن عمرو الغِفَاري، إذ جاءه رسولُ عليّ بن أبي طالب، فقال: إنَّ أمير المؤمنين يقول لك: إنك أحقُّ مَن أعانَنا على هذا الأمرِ، فقال: إني سمعتُ خليلي ابنَ عَمِّك ﷺ يقول: "إذا كان الأمرُ هكذا - أو مثلَ هذا - أنِ اتَّخِذْ سَيْفًا من خَشَب" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5867 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5867 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابو حاجب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ ان کے پاس سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا قاصد آیا اور کہا: ”امیر المؤمنین آپ سے فرماتے ہیں کہ آپ اس معاملے میں ہماری مدد کرنے کے سب سے زیادہ حقدار ہیں“، تو انہوں نے جواب دیا: بلاشبہ میں نے اپنے جگری دوست اور تمہارے چچا زاد بھائی (رسول اللہ ﷺ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب معاملہ (فتنہ) اس حد تک پہنچ جائے تو لکڑی کی تلوار بنا لو۔“