کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بنی اسرائیل کے بہترین علماء میں سے تھے
حدثنا محمد بن أحمد بن بُطّة، حدثنا أبو جعفر بن رُسْتَه، حدثنا سليمان بن داود الشاذَكُوني، حدثنا محمد بن عُمر، قال: عبدُ الله بن سَلَام يُكنى أبا يوسف، وكان اسمُه قبلَ الإسلام الحُصَين، فلما أسلم سمّاه رسولُ الله ﷺ عبدَ الله، وهو من بني إسرائيل، من ولد يوسف بن يعقوب ﵉، وحَليف للقواقِلَةِ من بني عَوف بن الخَزْرج، وتوفي عبدُ الله بن سَلَام بالمدينة في أقاويلِ جميعِهم سنة ثلاثٍ وأربعين في مُلْك معاوية.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی کنیت ”ابو یوسف“ تھی، اور اسلام قبول کرنے سے پہلے ان کا نام «الحُصَيْن» ”الحصین“ تھا، جب وہ اسلام لائے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام عبداللہ رکھا، آپ کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا اور آپ سیدنا یوسف بن یعقوب علیہما السلام کی اولاد میں سے تھے، نیز آپ بنو خزرج کی شاخ بنو عوف کے قبیلے ”قواقلہ“ «القواقِلَةِ» کے حلیف تھے، تمام مورخین کے اقوال کے مطابق سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی وفات سن 43 ہجری میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہدِ حکومت میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔
أخبرني خَلَف بن محمد الكَرَابِيسي ببُخارَى، حدثنا محمد بن حُرَيث، حدثنا عمرو بن علي، عن يحيى بن سعيد قال: كان ولاءُ عبد الله بن سَلَام لرسولِ الله ﷺ، ومات سنة ثلاث وأربعين (1). قد اتَّفق الشيخان ﵄ على حديث سعد بن أبي وقّاص: أنَّ النبي ﷺ لم يقل لأحدٍ يمشي على وجهِ الأرضِ: إنه من أهل الجنة، غيرِ عبدِ الله بن سَلَام (2).
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی نسبتِ ولاء رسول اللہ ﷺ کی جانب تھی، اور ان کا انتقال سن 43 ہجری میں ہوا۔ شیخین (امام بخاری و مسلم) کا سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی اس حدیث پر اتفاق ہے کہ نبی کریم ﷺ نے روئے زمین پر چلنے والے کسی بھی شخص کے متعلق یہ نہیں فرمایا کہ ”وہ جنتی ہے“ سوائے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے۔
أخبرنا أبو أحمد بَكْر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا محمد بن علي بن شَقيق، حدثنا الفضل بن خالد، حدثنا عُبيد بن سُليمان، عن الضحّاك، في قوله ﷿: ﴿وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ﴾ [الأحقاف: 10]، قال: الشاهدُ عبدُ الله بن سَلَام، وكان من الأحبار من علماء بني إسرائيل (1).
حافظ طلحہ بابر
ضحاک سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ﴾ [سورة الأحقاف: 10] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: اس آیت میں گواہی دینے والے شاہد سے مراد سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ہیں، اور وہ بنی اسرائیل کے جید علماء اور احبار میں سے تھے۔