المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ الْإِسْرَائِيلِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا عبد اللہ بن سلام الاسرائیلی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 5860
سمعتُ أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعتُ العباس بن محمد الدُّوْري يقول: سمعتُ يحيى بن مَعِين يقول: اسمُ عبدِ الله بن سَلَامٍ الحُصَينُ، فسمّاه رسولُ الله ﷺ عبدَ الله (2).
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن معین سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا (اسلام سے قبل) نام «الحُصَيْن» (الحصین) تھا، پس رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام بدل کر عبداللہ رکھ دیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) وأخرجه الدارقطني في "المؤتلف والمختلف" 2/ 547، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 29/ 104 من طريق المفضَّل بن غسان الغلابي، عن يحيى بن معين.
حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی نے "المؤتلف والمختلف" (2/ 547) اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (29/ 104) میں مفضل بن غسان الغلابی کے طریق سے یحییٰ بن معین سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 39/ (23782)، وابن ماجه (3734)، والترمذي (3256) و (3803) من طريق ابن أخي عبد الله بن سَلَام، عن عبد الله بن سَلام، قال: قدمتُ على رسول الله ﷺ وليس اسمي عبدَ الله بن سَلَام، فسماني رسولُ الله ﷺ عبدَ الله بنَ سَلام. وإسناده ليِّن لجهالة ابن أخي عبد الله بن سلام.
حوالہ / مصدر: احمد (39/ 23782)، ابن ماجہ (3734) اور ترمذی (3256 اور 3803) نے عبداللہ بن سلام کے بھتیجے کے طریق سے، عبداللہ بن سلام سے روایت کیا ہے کہ: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا تو میرا نام عبداللہ بن سلام نہیں تھا، رسول اللہ ﷺ نے میرا نام عبداللہ بن سلام رکھا۔
درجۂ حدیث: اس کی سند عبداللہ بن سلام کے بھتیجے کی جہالت کی وجہ سے "لیّن" (کمزور) ہے۔
وانظر "سيرة ابن هشام" 1/ 516 - 517، و "تاريخ دمشق" لابن عساكر 29/ 99 - 104.
حوالہ / مصدر: دیکھیں: "سیرت ابن ہشام" (1/ 516-517) اور "تاریخ دمشق" ابن عساکر (29/ 99-104)۔
حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی نے "المؤتلف والمختلف" (2/ 547) اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (29/ 104) میں مفضل بن غسان الغلابی کے طریق سے یحییٰ بن معین سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 39/ (23782)، وابن ماجه (3734)، والترمذي (3256) و (3803) من طريق ابن أخي عبد الله بن سَلَام، عن عبد الله بن سَلام، قال: قدمتُ على رسول الله ﷺ وليس اسمي عبدَ الله بن سَلَام، فسماني رسولُ الله ﷺ عبدَ الله بنَ سَلام. وإسناده ليِّن لجهالة ابن أخي عبد الله بن سلام.
حوالہ / مصدر: احمد (39/ 23782)، ابن ماجہ (3734) اور ترمذی (3256 اور 3803) نے عبداللہ بن سلام کے بھتیجے کے طریق سے، عبداللہ بن سلام سے روایت کیا ہے کہ: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا تو میرا نام عبداللہ بن سلام نہیں تھا، رسول اللہ ﷺ نے میرا نام عبداللہ بن سلام رکھا۔
درجۂ حدیث: اس کی سند عبداللہ بن سلام کے بھتیجے کی جہالت کی وجہ سے "لیّن" (کمزور) ہے۔
وانظر "سيرة ابن هشام" 1/ 516 - 517، و "تاريخ دمشق" لابن عساكر 29/ 99 - 104.
حوالہ / مصدر: دیکھیں: "سیرت ابن ہشام" (1/ 516-517) اور "تاریخ دمشق" ابن عساکر (29/ 99-104)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5860 سے ماخوذ ہے۔