کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جس چیز کی کثرت نشہ آور ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خَليفة بن خيّاط، حدثنا عبد الله بن إسحاق بن صالح بن خَوّات بن جُبير، قال: حدثني أبي، عن أبيه، عن جده خَوّات بن جبير، عن النبي ﷺ قال: "ما أسكَرَ كثيرُه فقليلُه حرامٌ" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرے، اس کی تھوڑی سی مقدار بھی حرام ہے۔“
قال عبد الله بن إسحاق عن آبائه: إن خَوَاتَ بن جُبير مات سنةَ أربعين.
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن اسحاق اپنے آباء سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ کا انتقال سن 40 ہجری میں ہوا تھا۔
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، أخبرني عبد الملك بن أبي سُليمان، عن خَوّات بن صالح، عن أبيه. قال (1): وأخبرنا أبو بكر بن عبد الله بن أبي سَبْرة، عن المسور بن رِفاعة، عن عبد الله بن مِكْنَف: أنَّ خَوّات بن جُبير ممّن خرج مع رسولِ الله ﷺ إلى بدرٍ، فلما كان بالرَّوحاء أصابه نَصِيلُ حَجَر فكُسِر، فردَّه رسول الله ﷺ إلى المدينة، وضَرَب له بسَهْمِه وأجرِه، فكان كمن شَهِدها. قالوا: وشهد خَوّات أحُدًا والخندقَ والمشاهدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ (2).
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن مکنف سے روایت ہے کہ سیدنا خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں شامل تھے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر کی طرف روانہ ہوئے تھے، پھر جب وہ مقامِ روحاء پہنچے تو انہیں پتھر کی ایک نوک لگی جس سے ان کی ہڈی ٹوٹ گئی، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں مدینہ واپس بھیج دیا اور ان کے لیے (مالِ غنیمت میں سے) حصہ اور اجر مقرر فرمایا، پس وہ ایسے ہی تھے گویا وہ غزوے میں خود موجود ہوں۔ راویوں نے بیان کیا ہے کہ خوات رضی اللہ عنہ غزوہ احد، خندق اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے۔
قال ابن عُمر: وحدثني صالح بن خَوّات بن صالح، عن أهله، قالوا: مات خَوّات بن جُبير بالمدينة في سنة أربعين، وهو ابن أربع وسبعين سنةً، وكان رَبْعةً من الرِّجال (3).
حافظ طلحہ بابر
صالح بن خوات بن صالح اپنے گھر والوں سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ کا انتقال مدینہ منورہ میں سن 40 ہجری میں ہوا، وہ چوہتر سال کے تھے اور میانہ قد انسان تھے۔
حدثنا أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَرِي، حدثنا شَبَاب بن خَيّاط، قال: أخبرنا عبد الله بن إسحاق بن صالح بن خوات بن جبير، عن أبيه، عن جده، قال: قال أبي خَوّات بن جبير، مرضتُ فعادَني النبيُّ ﷺ، فلما بَرَأتُ، قال: "صحَّ جِسمُك يا خَوّاتُ، فِ اللهِ تعالى بما وَعَدْتَه" قلتُ: وما وعدتُ الله شيئًا، فقال: "إنه ليس من مَريض يَمْرَضُ إِلَّا نَذَر شيئًا، أو نَوى شيئًا، ففِ لله ﷿ بما وَعَدْتَه" (1). ذكرُ مناقب عبد الله بن سَلَام الإسرائيليِّ ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5750 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5750 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں بیمار ہوا تو نبی کریم ﷺ نے میری عیادت فرمائی، پھر جب میں تندرست ہو گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے خوات! تمہارا جسم صحت یاب ہو گیا ہے، اب اللہ تعالیٰ کے لیے وہ وعدہ پورا کرو جو تم نے اس سے کیا تھا۔“ میں نے عرض کی: میں نے تو اللہ سے کوئی وعدہ نہیں کیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ ایسا کوئی مریض نہیں ہوتا جو بیمار ہو مگر وہ (اپنے دل میں) کوئی منت مانتا ہے یا کسی بات کی نیت کرتا ہے، پس اللہ عزوجل کے لیے وہ (وعدہ) پورا کرو جو تم نے اس سے کیا تھا۔“