کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نظرِ بد کے ضرر کو دور کرنے کے لیے غسل کا طریقہ
أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزِي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا يحيى بن صالح الوُحَاظي، حدثنا الجَرّاح بن المِنهال، عن الزُّهري، عن أبي أُمامة بن سهل بن حُنيف: أنَّ عامرَ بن رَبيعة - رجلٌ من بني عَدِيّ بن كعب - رأى سهلَ بن حُنيف مع رسولِ الله ﷺ يغتسل بالخَرّار، فقال: واللهِ ما رأيتُ كاليومِ قطُّ ولا جِلدَ مُخبّأة، فلُبِطَ سهلٌ وسَقَط، فقيل: يا رسول الله، هل لك في سهْل بن حُنيف؟ فدعا رسولُ الله ﷺ عامرَ بنَ ربيعة، فتغيَّظ عليه، وقال: "لِمَ يقتُلُ أحدُكم أخاهُ - أو صاحبَه - ألا يدعو بالبَرَكة؟! اعْتَسِل له" فاغتَسل له عامرٌ، فراحَ سهلٌ وليس به بأسٌ. والغَسلُ أن يُؤتى بقَدَح فيه ماءُ؛ فيُدخِلُ يدَيه في القدح جميعًا، ويُهرِيقُ على وجهه من القَدَح، ثم يغسلُ فيه يدَه اليُمنى، ويَغسِل مِن فِيه في القَدَح، ويُدخِل يدَه فيَغسِل ظَهْرَه، ثم يأخُذ بيده اليَسار فيفعلُ مثلَ ذلك، ثم يَغسِل صدْرَه في القَدَح، ثم يَغسِل ركبتَه اليُمنى في القَدَح وأطرافَ أصابعِه، ويفعلُ ذلك بالرِّجل اليُسرى، ويُدخِلُ داخِلةَ (1) إزاره، ثم يُغطِّي القَدَح قبل أن يضعَه على الأرض، فيَحسُو منه ويتمضمض، ويُهرِيقُ على وجهِه، ثم يَصُبُّ على رأسِه (2)، ثم يُلقي القَدَحَ من وَرائِه (3) قد اتفق الشيخان ﵄ على إخراج هذا الحديثِ مختصرًا (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ”الخرار“ کے مقام پر غسل کرتے ہوئے دیکھا، تو انہوں نے (ان کے حسن و جمال کو دیکھ کر) کہا: ”اللہ کی قسم! میں نے آج جیسا (حسین منظر) کبھی نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی پردہ نشین دوشیزہ کی کھال ایسی دیکھی ہے“، پس سہل وہیں بے ہوش ہو کر گر پڑے، عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ سہل بن حنیف کی خبر لیں گے؟ تب رسول اللہ ﷺ نے عامر بن ربیعہ کو بلایا اور ان پر غصہ ہوتے ہوئے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی یا اپنے ساتھی کو کیوں قتل کرتا ہے؟ تم نے (انہیں دیکھ کر) برکت کی دعا کیوں نہ دی؟! ان کے لیے غسل کرو“، چنانچہ عامر نے ان کے لیے غسل کیا تو سہل اس حال میں اٹھے کہ انہیں کوئی تکلیف نہ تھی، اور (نظرِ بد کے علاج کے لیے) اس غسل کا طریقہ یہ ہے کہ: پانی کا ایک پیالہ لایا جائے، پھر غسل کرنے والا اپنے دونوں ہاتھ اس پیالے میں ایک ساتھ ڈالے، پھر پیالے سے اپنے چہرے پر پانی بہائے، پھر اس میں اپنا دایاں ہاتھ دھوئے، اور پیالے میں کلی کرے، پھر اپنا ہاتھ ڈال کر اپنی کمر دھوئے، پھر اپنے بائیں ہاتھ سے بھی ایسا ہی کرے، پھر پیالے میں اپنا سینہ دھوئے، پھر اپنا دایاں گھٹنا اور انگلیوں کے پورے پیالے میں دھوئے، اور یہی عمل بائیں پاؤں کے ساتھ کرے، اور اپنے تہبند کا اندرونی حصہ (جس سے جسم مس ہوتا ہے) دھوئے، پھر پیالے کو زمین پر رکھنے سے پہلے اسے ڈھانپ دے، پھر (جسے نظر لگی ہو وہ) اس میں سے تھوڑا پانی پی لے، کلی کرے اور اسے اپنے چہرے پر بہائے، پھر اپنے سر پر ڈالے، پھر پیالے کو اپنے پیچھے کی جانب گرا دے۔
شیخین نے اس حدیث کو مختصراً روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5847
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا؛ الجراح بن المنهال متروك الحديث واتهمه بعضهم
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا؛ الجراح بن المنهال متروك الحديث واتهمه بعضهم، لكن روى هذا الخبر غيرُه من الحفاظ عن الزهري، لكنهم اختلفُوا في وصل هذا الخبر وإرساله، فقد وصله بعضُهم بذكر سهل بن حُنيف أنه هو الذي حدَّث ابنَه أبا أمامة بالقصة، لكن الأكثرين على إرساله كما سيأتي تخريج رواياتهم في ...» [ترقيم الرساله 5847] [ترقيم الشركة 5792]
كما حدَّثَناهُ أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بنُ وهب، أخبرني يونُس، عن ابن شِهاب، قال: أخبرني أبو أُمامة بن سهل بن حُنيف: أنَّ عامرَ بنَ ربيعة مرّ على سهل بن حُنيف الأنصاري وهو يغتسل في الخَرّار، فقال: واللهِ ما رأيتُ كاليومِ قطُّ ولا جِلدَ مُخبّأةٍ، فلُبِطَ سهلٌ، فأُتي رسولُ الله ﷺ، فقيل له: يا رسول الله، هل لك في سهل بن حُنيف؟ فقال رسول الله ﷺ: "هل تَتَّهمون به من أَحدٍ؟ " فقالوا: نعم، مرّ به عامرُ بن ربيعةَ، فتغيَّظَ عليه وقال: "ألا بَرَّكت؟! اعْتَسِلْ له"، فاغتسلَ له عامرٌ، فراحَ سهلٌ مع الرَّكْبِ (2). قال الحاكم: فأما الجَرّاح بن المنهال فإنه أبو العَطُوف الجَزَري، وليس من شرط الصحيح، وإنما أخرجتُ هذا الحديثَ لشرح الغُسل كيف هُو، وهو غريبٌ جدًّا مسنَدًا عن رسول الله ﷺ (1). وقد أتى عبدُ الله بن وهب على أثَر حديثه هذا بإسنادٍ آخر بزيادات فيه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کا گزر سہل بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جبکہ وہ مقامِ خرار میں غسل کر رہے تھے، تو انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں نے آج جیسا (خوبصورت بدن) کبھی نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی پردہ نشین دوشیزہ کی کھال ایسی دیکھی ہے“، تو سہل وہیں گر پڑے، پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ سہل بن حنیف کی خبر لیں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم اس کے متعلق کسی پر شک کرتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، ان کے پاس سے عامر بن ربیعہ گزرے تھے، تو آپ ﷺ نے ان پر غصہ فرمایا اور ارشاد فرمایا: ”تم نے برکت کی دعا کیوں نہ دی؟! ان کے لیے غسل کرو“، چنانچہ عامر نے ان کے لیے غسل کیا تو سہل قافلے کے ساتھ اس طرح روانہ ہوئے (گویا انہیں کچھ ہوا ہی نہ تھا)۔
امام حاکم فرماتے ہیں: جہاں تک جراح بن منحال کا تعلق ہے تو وہ ابوالعطوف جزری ہیں اور وہ صحیح کی شرط پر نہیں ہیں، میں نے یہ حدیث محض اس لیے نقل کی ہے تاکہ غسل کے طریقے کی وضاحت ہو جائے، اور رسول اللہ ﷺ سے یہ طریقہ بسندِ متصل مروی ہونا نہایت ہی غریب (نادر) بات ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5848
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكنه مرسلٌ كسابقه، فإنَّ أبا أُمامة ولد في حياة النبي ﷺ وهو الذي سمّاه ودعا له وبرَّك عليه، فيُعدُّ في كبار التابعين كما قال ابن عبد البر في ترجمته من "الاستيعاب". يونس: هو ابن يزيد الأَيلي.» [ترقيم الرساله 5848] [ترقيم الشركة 5793]
حدَّثَناهُ أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا ابن وهب، أخبرني يوسف بن طَهْمانَ، عن محمد بن أبي أُمامة بن سهل بن حُنيف، أنه سمع أباه يقول: اغتسَل أبي سهلُ بن حُنيف فنزَع جُبّةً كانت عليه يومَ خيبر حين هَزم اللهُ العدوَّ، وعامر بن ربيعة يَنظُر - قال: وكان سهلٌ رجلًا أبيض حسنَ الخَلْق - فقال له عامر بن ربيعة: ما رأيتُ كاليومِ قطُّ - ونَظَر إليه فأعجبَه حُسنُه حين طَرَح جبته، فقال: - ولا جاريةً في سِتْرها بأحسنَ جسدًا من جَسَد سهل بن حُنيف، فوُعِكَ سهلٌ مكانَه، واشتَدّ وَعْكُه، فأُتي رسولُ الله ﷺ فأخبروه أنَّ سهلًا وُعِك، وأنه غيرُ رائحٍ معك، فأتاه رسولُ الله ﷺ، فأخبره بالذي كان من شأن عامر، فقال رسول الله ﷺ: "على ما يَقتُلُ أحدكم أخاهُ؟! ألا بَرَّكتَ، إنَّ العينَ حقٌّ، توضّأْ له" ثم قال رسول الله ﷺ: "إذا رأى أحدُكم شيئًا يُعجِبُه فليُبِّرك؛ فإنَّ العينَ حَقٌّ" (1). هذه الزياداتُ في الحديثَين جميعًا ممّا لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5742 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے غزوہ خیبر کے دن جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست دے دی تھی، اپنا جبہ اتارا اور غسل کرنے لگے، اس وقت عامر بن ربیعہ انہیں دیکھ رہے تھے، اور سہل سفید رنگت والے انتہائی خوبصورت انسان تھے، عامر بن ربیعہ نے انہیں دیکھ کر حیرت سے کہا: ”میں نے آج جیسا حسین منظر کبھی نہیں دیکھا، یہاں تک کہ پردہ نشین دوشیزہ کا جسم بھی سہل بن حنیف کے جسم جیسا خوبصورت نہیں ہو سکتا۔“ اسی وقت سیدنا سہل رضی اللہ عنہ وہیں بیمار ہو گئے اور ان کی تکلیف شدید ہو گئی، چنانچہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ سہل بیمار ہو گئے ہیں اور وہ آپ کے ساتھ چلنے کے قابل نہیں رہے، آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو آپ کو عامر بن ربیعہ کے کہے ہوئے کلمات کی خبر دی گئی، جس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کیوں قتل کرتا ہے؟ تم نے برکت کی دعا کیوں نہ دی (یعنی ماشاء اللہ کیوں نہ کہا)؟ بیشک نظرِ بد برحق ہے، اس کے لیے وضو کرو۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے پسند آئے تو اسے چاہیے کہ برکت کی دعا کرے کیونکہ نظرِ بد برحق ہے۔“
یہ اضافہ ان دونوں احادیث میں ہے جنہیں شیخین نے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5849
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يوسف بن طهمان، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه"، لكنه لم ينفرد به، فقد تابعه عليه مالكُ بن أنس، وعلى كلِّ فالخبر مرسَلٌ كسابقه،» [ترقيم الرساله 5849] [ترقيم الشركة 5794] [ترقيم العلميه 5742]
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن أحمد بن أنَس (2) القرشي، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا ابن جُريج، أخبرني عبد الكريم بن أبي المُخارِق، عن الوليد بن مالك (3)، رجل من عبد القَيس، عن محمد بن قيس مولى سهل بن حُنيف، عن سهل بن حُنيف، أنَّ رسول الله ﷺ، حدّثه، قال: قال لي رسولُ الله ﷺ: "أنت رسُولي إلى مكةَ، فأَقْرِهم مني السلامَ، وقُل لهم: إنَّ رسول الله ﷺ يأمرُكم بثلاثٍ: لا تَحلفِوا بآبائكم، وإذا خَلوتُم فلا تَستقبِلوا القِبلةَ ولا تستَدبِروها، ولا تَستَنْجُوا بعَظْم ولا ببَعْر" (4). ذكرُ مناقب خَوّات بن جُبير الأنصاري ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5743 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم مکہ کی طرف میرے قاصد ہو، پس تم اہل مکہ کو میرا سلام پہنچانا اور ان سے کہنا کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں تین باتوں کا حکم دیتے ہیں: اپنے باپ دادا کی قسمیں نہ کھاؤ، اور جب تم قضائے حاجت کے لیے تنہائی میں ہو تو قبلہ کی طرف رخ نہ کرو اور نہ ہی اس کی طرف پیٹھ کرو، اور نہ ہی ہڈی یا لید (گوبر) سے استنجا کرو۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5850
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف عبد الكريم بن أبي المُخارِق
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف عبد الكريم بن أبي المُخارِق، وجهالة الوليد بن مالك العَبْدي.» [ترقيم الرساله 5850] [ترقيم الشركة 5795] [ترقيم العلميه 5743]