حدیث نمبر: 5849
حدَّثَناهُ أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا ابن وهب، أخبرني يوسف بن طَهْمانَ، عن محمد بن أبي أُمامة بن سهل بن حُنيف، أنه سمع أباه يقول: اغتسَل أبي سهلُ بن حُنيف فنزَع جُبّةً كانت عليه يومَ خيبر حين هَزم اللهُ العدوَّ، وعامر بن ربيعة يَنظُر - قال: وكان سهلٌ رجلًا أبيض حسنَ الخَلْق - فقال له عامر بن ربيعة: ما رأيتُ كاليومِ قطُّ - ونَظَر إليه فأعجبَه حُسنُه حين طَرَح جبته، فقال: - ولا جاريةً في سِتْرها بأحسنَ جسدًا من جَسَد سهل بن حُنيف، فوُعِكَ سهلٌ مكانَه، واشتَدّ وَعْكُه، فأُتي رسولُ الله ﷺ فأخبروه أنَّ سهلًا وُعِك، وأنه غيرُ رائحٍ معك، فأتاه رسولُ الله ﷺ، فأخبره بالذي كان من شأن عامر، فقال رسول الله ﷺ: "على ما يَقتُلُ أحدكم أخاهُ؟! ألا بَرَّكتَ، إنَّ العينَ حقٌّ، توضّأْ له" ثم قال رسول الله ﷺ: "إذا رأى أحدُكم شيئًا يُعجِبُه فليُبِّرك؛ فإنَّ العينَ حَقٌّ" (1). هذه الزياداتُ في الحديثَين جميعًا ممّا لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5742 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے غزوہ خیبر کے دن جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست دے دی تھی، اپنا جبہ اتارا اور غسل کرنے لگے، اس وقت عامر بن ربیعہ انہیں دیکھ رہے تھے، اور سہل سفید رنگت والے انتہائی خوبصورت انسان تھے، عامر بن ربیعہ نے انہیں دیکھ کر حیرت سے کہا: ”میں نے آج جیسا حسین منظر کبھی نہیں دیکھا، یہاں تک کہ پردہ نشین دوشیزہ کا جسم بھی سہل بن حنیف کے جسم جیسا خوبصورت نہیں ہو سکتا۔“ اسی وقت سیدنا سہل رضی اللہ عنہ وہیں بیمار ہو گئے اور ان کی تکلیف شدید ہو گئی، چنانچہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ سہل بیمار ہو گئے ہیں اور وہ آپ کے ساتھ چلنے کے قابل نہیں رہے، آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو آپ کو عامر بن ربیعہ کے کہے ہوئے کلمات کی خبر دی گئی، جس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کیوں قتل کرتا ہے؟ تم نے برکت کی دعا کیوں نہ دی (یعنی ماشاء اللہ کیوں نہ کہا)؟ بیشک نظرِ بد برحق ہے، اس کے لیے وضو کرو۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے پسند آئے تو اسے چاہیے کہ برکت کی دعا کرے کیونکہ نظرِ بد برحق ہے۔“
یہ اضافہ ان دونوں احادیث میں ہے جنہیں شیخین نے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5849
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يوسف بن طهمان، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه"، لكنه لم ينفرد به، فقد تابعه عليه مالكُ بن أنس، وعلى كلِّ فالخبر مرسَلٌ كسابقه،» [ترقيم الرساله 5849] [ترقيم الشركة 5794] [ترقيم العلميه 5742]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يوسف بن طهمان، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه"، لكنه لم ينفرد به، فقد تابعه عليه مالكُ بن أنس، وعلى كلِّ فالخبر مرسَلٌ كسابقه.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، جبکہ موجودہ سند یوسف بن طہمان کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ ذہبی نے "تلخیص" میں اسی وجہ سے اس پر علت لگائی ہے۔ لیکن یوسف اس میں منفرد نہیں ہیں، بلکہ مالک بن انس نے ان کی متابعت کی ہے۔ بہرحال، یہ خبر بھی پچھلی خبر کی طرح "مرسل" ہے۔
وهو في "الجامع" لابن وهب (641).
حوالہ / مصدر: یہ ابن وہب کی "الجامع" (641) میں موجود ہے۔
وأخرجه مالك في "موطئه" 2/ 938، ومن طريقه ابن وهب في "جامعه" (641)، والطحاوي في "شرح المشكل" (2895 م)، وابن حبان (6105) عن محمد بن أبي أمامة، عن أبيه.
حوالہ / مصدر: اسے مالک نے "الموطأ" (2/ 938) میں، اور ان کے طریق سے ابن وہب نے "الجامع" (641)، طحاوی نے "شرح المشكل" (2895 م) اور ابن حبان (6105) نے محمد بن ابی امامہ کے واسطے سے ان کے والد سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5849 سے ماخوذ ہے۔