کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھنے والے کی نبی ﷺ کی طرف سے تربیت
حدثنا أبو علي الحافظ، أخبرنا إسحاق بن إبراهيم المصري، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن عمرو بن دينار، عن عِكرمةَ، عن ابن عباس، قال: دخَل عليٌّ بسَيفِه على فاطمةَ وهي تَغسِل الدمَ عن وجهِ رسول الله ﷺ، فقال: خُذِيه، فلقد أحسنتُ به القِتالَ، فقال رسول الله ﷺ: "إن كنتَ قد أحسنتَ القتالَ اليومَ، فلقد أحسنَ سهلُ بن حُنيف، وعاصمُ بن ثابت، والحارثُ بن الصِّمَّة، وأبو دُجانةَ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وفيه تأديبٌ لمن يَمُنُّ على مَن هو أفضلُ منه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وفيه تأديبٌ لمن يَمُنُّ على مَن هو أفضلُ منه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی تلوار لے کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے جبکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک سے خون دھو رہی تھیں، آپ نے فرمایا: ”اسے پکڑو، آج میں نے اس کے ذریعے بہت اچھی جنگ کی ہے“، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم نے آج اچھی جنگ کی ہے تو بیشک سہل بن حنیف، عاصم بن ثابت، حارث بن صمہ اور ابو دجانہ (رضی اللہ عنہم) نے بھی بہت عمدہ قتال کیا ہے“۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس میں ان لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جو اپنے سے افضل ہستیوں پر فخر یا احسان جتاتے ہیں۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس میں ان لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جو اپنے سے افضل ہستیوں پر فخر یا احسان جتاتے ہیں۔
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا إسحاق بن إبراهيم المصري، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن عمرو بن دينار، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، قال: دخَل عليٌّ على فاطمةَ وهي تَغسِل الدمَ عن وجهِ رسول الله ﷺ، فذكَر الحديثَ كما أملَيتُه (1) سمعت أبا عليٍّ الحافظ يقول: لم نَكتبُه موصولًا إلَّا عن أبي يعقوبَ بإسناده، والمشهورُ من حديثِ ابن عُيينة، عن عمرو بن دينار، عن عِكْرمة مرسلًا، وإنما يُعرَف هذا المتنُ من حديث أبي مَعشَرٍ، عن أيوبَ بن أبي أُمامة بن سهل، عن أبيه، عن جدِّه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے جبکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک سے خون دھو رہی تھیں، پھر انہوں نے وہی حدیث ذکر کی جو میں نے (پچھلے نمبر پر) بیان کی ہے۔ ابو علی حافظ کہتے ہیں: ہم نے اس حدیث کو سوائے ابویعقوب کی سند کے کہیں متصل نہیں پایا، اور ابن عیینہ کی مشہور روایت جو عمرو بن دینار سے مروی ہے وہ عکرمہ کے واسطے سے مرسل ہے، اور یہ متن ابو معشر کی روایت سے زیادہ معروف ہے۔
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوبَ الثَّقَفي، حدثنا عمر بن حفص السَّدُوسي، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا أبو مَعْشَر، عن أيوب بن أبي أمامة بن سَهْل بن حُنيف، عن أبيه، عن سهل بن حُنيف، قال: جاء عليٌّ إلى فاطمةَ يومَ أحُدٍ، فقال: أمسِكي سيَفي هذا، فلقد أحسنتُ به الضَّربَ اليومَ، فقال رسول الله ﷺ: "إن كنتَ أحسنتَ به القِتالَ، فقد أحسنَه عاصمُ بن ثابت، وسَهلُ بن حُنيف، والحارثُ بن الصِّمَّة" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”میری اس تلوار کو پکڑو، بیشک آج میں نے اس کے ذریعے بھرپور وار کیے ہیں“، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم نے اس کے ذریعے اچھی جنگ کی ہے تو بیشک عاصم بن ثابت، سہل بن حنیف اور حارث بن صمہ (رضی اللہ عنہم) نے بھی بہترین قتال کیا ہے“۔
حدثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيدٍ (3) الحافظُ بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحُسين، حدثنا أبو اليَمَان، أخبرني شعيبٌ، عن الزُّهْري، أخبرني أبو أُمامة بن سهْل بن حُنيف، وكان من كُبَراء الأنصار، وآباؤهم الذين شهدوا بدرًا مع رسول الله ﷺ (1). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5739 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5739 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے، وہ انصار کے اکابرین میں سے تھے اور ان کے آباؤ اجداد وہ لوگ تھے جو رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ معرکہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔