المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
تَأْدِيبُ النَّبِيِّ لِمَنْ يَرَى نَفْسَهُ أَفْضَلَ باب: اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھنے والے کی نبی ﷺ کی طرف سے تربیت
حدیث نمبر: 5844
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا إسحاق بن إبراهيم المصري، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن عمرو بن دينار، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، قال: دخَل عليٌّ على فاطمةَ وهي تَغسِل الدمَ عن وجهِ رسول الله ﷺ، فذكَر الحديثَ كما أملَيتُه (1) سمعت أبا عليٍّ الحافظ يقول: لم نَكتبُه موصولًا إلَّا عن أبي يعقوبَ بإسناده، والمشهورُ من حديثِ ابن عُيينة، عن عمرو بن دينار، عن عِكْرمة مرسلًا، وإنما يُعرَف هذا المتنُ من حديث أبي مَعشَرٍ، عن أيوبَ بن أبي أُمامة بن سهل، عن أبيه، عن جدِّه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے جبکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک سے خون دھو رہی تھیں، پھر انہوں نے وہی حدیث ذکر کی جو میں نے (پچھلے نمبر پر) بیان کی ہے۔ ابو علی حافظ کہتے ہیں: ہم نے اس حدیث کو سوائے ابویعقوب کی سند کے کہیں متصل نہیں پایا، اور ابن عیینہ کی مشہور روایت جو عمرو بن دینار سے مروی ہے وہ عکرمہ کے واسطے سے مرسل ہے، اور یہ متن ابو معشر کی روایت سے زیادہ معروف ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن لغيره، وهو مكرر سابقه، ولم يظهر لنا سببُ تكراره له، اللهم إلّا أن يكون أراد تقييد شيخه أبي عليٍّ بتسميته باسمه في هذه الطريق، لئلا يلتبس بشيخه الآخر أبي علي الحَسَن بن علي بن داود المصري، ولا سيما أنَّ الرواية هنا عن إسحاق بن إبراهيم المصري، والله أعلم.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن لغیرہ" ہے اور پچھلی روایت کی تکرار ہے۔ ہمیں اس تکرار کی کوئی خاص وجہ سمجھ نہیں آئی، سوائے اس کے کہ شاید مصنف نے اس سند میں اپنے شیخ "ابو علی" کا پورا نام ذکر کر کے ان کا تعین کرنا چاہا ہو، تاکہ ان کے دوسرے شیخ "ابو علی الحسن بن علی بن داود المصری" کے ساتھ التباس نہ ہو، خاص طور پر چونکہ یہاں روایت اسحاق بن ابراہیم المصری سے ہے۔ واللہ اعلم۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن لغیرہ" ہے اور پچھلی روایت کی تکرار ہے۔ ہمیں اس تکرار کی کوئی خاص وجہ سمجھ نہیں آئی، سوائے اس کے کہ شاید مصنف نے اس سند میں اپنے شیخ "ابو علی" کا پورا نام ذکر کر کے ان کا تعین کرنا چاہا ہو، تاکہ ان کے دوسرے شیخ "ابو علی الحسن بن علی بن داود المصری" کے ساتھ التباس نہ ہو، خاص طور پر چونکہ یہاں روایت اسحاق بن ابراہیم المصری سے ہے۔ واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5844 سے ماخوذ ہے۔