کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نبی کریم ﷺ نے خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري، قال: خُزيمة بن ثابت بن الفاكِه بن ثَعْلبة بن ساعدة بن عامر بن عَنَانِ بن عامر بن خَطْمةَ، وهو ذو الشهادتَين، جعلَ رسولُ الله ﷺ شهادتَه بشهادةِ رجُلَين. وأخبرَ النبيَّ ﷺ: أنه رأى في المنام كأنه سَجَدَ على جَبْهة النبي ﷺ، فاضطَجَعَ النبيُّ ﷺ حتى سَجَدَ على جَبْهتِه. قُتِل مع عليٍّ بصِفِّين بعد قَتْل عمارِ بن ياسر (2).
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے کہ سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ وہی ہیں جنہیں ”ذوالشہادتین“ کہا جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے ان کی اکیلے کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا، انہوں نے نبی کریم ﷺ کو خبر دی کہ انہوں نے خواب میں دیکھا ہے گویا وہ نبی کریم ﷺ کی پیشانی پر سجدہ کر رہے ہیں، تو نبی کریم ﷺ (ان کے خواب کی تعبیر کے لیے) لیٹ گئے یہاں تک کہ انہوں نے آپ ﷺ کی پیشانی پر سجدہ کر لیا، وہ جنگ صفین میں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد شہید ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5800
درجۂ حدیث محدثین: أما قصة جعل النبيِّ ﷺ شهادة خزيمة بشهادة رجلين
تخریج حدیث «أما قصة جعل النبيِّ ﷺ شهادة خزيمة بشهادة رجلين، فصحيحة ثابتة كما تقدَّم برقم (2217) و (2218). وأما قصة رؤياه فأخرجها أحمد 36/ (21863) و (21864) و (21882) و (21885)، وغيره، وفي إسنادها اضطراب كما هو مبيَّن في التعليق على "المسند".» [ترقيم الرساله 5800] [ترقيم الشركة 5745]
حدثنا أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا خَليفة بن خَيّاط، حدثنا يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، قال: شَهِد خُزيمةُ بن ثابت ذو الشَّهادتَين مع عليّ بن أبي طالب صِفِّين وقُتل يومئذٍ سنة سَبعٍ وثلاثين من الهِجْرة، وكان لخُزيمة أخَوان، يقال لأحدهما: وَحْوَح، والآخر: عبدُ الله.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن اسحاق سے روایت ہے کہ ذوالشہادتین سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ صفین میں شریک ہوئے اور اسی دن سن 37 ہجری میں شہید ہوئے، سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کے دو بھائی تھے جن میں سے ایک کا نام وحوح اور دوسرے کا عبداللہ تھا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5801
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5801] [ترقيم الشركة 5746]
حدثني محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن إسحاق الثَّقَفي، حدثنا محمد بن بَكّار، حدثنا أبو مَعْشَر المَدَني (1)، عن، عن محمد بن عُمارة بن خُزيمة بن ثابت، قال: كان جَدِّي كافًّا سِلاحَه (2) يوم الجَمَل ويوم صِفِّين حتى قُتِل عَمّارُ، فلما قُتِل عمارٌ، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "تَقتُل عمارًا الفِئةُ الباغِيةُ". قال: فسَلَّ سيفَه فقاتَل حتى قُتِل (3). ذكرُ مناقب صُهَيب بن سِنانٍ مولى النبيّ ﷺ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5697 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمارہ بن خزیمہ بن ثابت اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میرے دادا نے جنگ جمل اور جنگ صفین کے دن اپنا اسلحہ روک رکھا تھا یہاں تک کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے، پس جب عمار رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا“، راوی کہتے ہیں: تب انہوں نے اپنی تلوار سونتی اور قتال کیا یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5802
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر المدني» [ترقيم الرساله 5802] [ترقيم الشركة 5747] [ترقيم العلميه 5697]