حدیث نمبر: 5800
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري، قال: خُزيمة بن ثابت بن الفاكِه بن ثَعْلبة بن ساعدة بن عامر بن عَنَانِ بن عامر بن خَطْمةَ، وهو ذو الشهادتَين، جعلَ رسولُ الله ﷺ شهادتَه بشهادةِ رجُلَين. وأخبرَ النبيَّ ﷺ: أنه رأى في المنام كأنه سَجَدَ على جَبْهة النبي ﷺ، فاضطَجَعَ النبيُّ ﷺ حتى سَجَدَ على جَبْهتِه. قُتِل مع عليٍّ بصِفِّين بعد قَتْل عمارِ بن ياسر (2).
حافظ طلحہ بابر

مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے کہ سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ وہی ہیں جنہیں ”ذوالشہادتین“ کہا جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے ان کی اکیلے کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا، انہوں نے نبی کریم ﷺ کو خبر دی کہ انہوں نے خواب میں دیکھا ہے گویا وہ نبی کریم ﷺ کی پیشانی پر سجدہ کر رہے ہیں، تو نبی کریم ﷺ (ان کے خواب کی تعبیر کے لیے) لیٹ گئے یہاں تک کہ انہوں نے آپ ﷺ کی پیشانی پر سجدہ کر لیا، وہ جنگ صفین میں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد شہید ہوئے تھے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5800
درجۂ حدیث محدثین: أما قصة جعل النبيِّ ﷺ شهادة خزيمة بشهادة رجلين
تخریج حدیث «أما قصة جعل النبيِّ ﷺ شهادة خزيمة بشهادة رجلين، فصحيحة ثابتة كما تقدَّم برقم (2217) و (2218). وأما قصة رؤياه فأخرجها أحمد 36/ (21863) و (21864) و (21882) و (21885)، وغيره، وفي إسنادها اضطراب كما هو مبيَّن في التعليق على "المسند".» [ترقيم الرساله 5800] [ترقيم الشركة 5745]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) أما قصة جعل النبيِّ ﷺ شهادة خزيمة بشهادة رجلين، فصحيحة ثابتة كما تقدَّم برقم (2217) و (2218). وأما قصة رؤياه فأخرجها أحمد 36/ (21863) و (21864) و (21882) و (21885)، وغيره، وفي إسنادها اضطراب كما هو مبيَّن في التعليق على "المسند".
درجۂ حدیث: جہاں تک نبی ﷺ کا حضرت خزیمہ کی گواہی کو دو مردوں کے برابر قرار دینے کا قصہ ہے تو وہ صحیح اور ثابت ہے جیسا کہ پیچھے نمبر (2217) اور (2218) پر گزر چکا ہے۔ البتہ ان کے خواب کا قصہ امام احمد (36/ 21863، 21864، 21882 اور 21885) وغیرہ نے تخریج کیا ہے، لیکن اس کی سند میں "اضطراب" ہے جیسا کہ "المسند" کی تعلیق (حاشیہ) میں واضح کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5800 سے ماخوذ ہے۔