حدیث نمبر: 5771
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزُوق، حدثنا أبو داود الطَّيَالسي، حدثنا شُعبة، أخبرني سلَمة بن كُهَيل، سمعتُ محمد بن عبد الرحمن بن يزيد يحدِّث عن أبيه، عن الأشتَرِ، عن خالد بن الوليد، قال: كان بيني وبين عَمّار شيءٌ، فشَكَوتُه إلى رسول الله ﷺ، فقال رسول الله ﷺ: "من يَسُبُّ عمارًا يَسُبُّه اللهُ، ومن يُعادِي عمارًا يُعادِيهِ الله" (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5667 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ (ناخوشگواری) تھی، تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے ان کی شکایت کی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص عمار کو برا بھلا کہتا ہے، اللہ اسے برا کہتا ہے، اور جو عمار سے دشمنی رکھتا ہے، اللہ اس سے دشمنی رکھتا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5771
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «رجاله ثقات، وتفرَّد به الأشتر: وهو مالك بن الحارث النخعي، أحد الأشراف، لكن سئل الإمام أحمد: يُروَى عنه؟ قال: لا. أبو داود الطيالسي: هو سليمان بن داود. وأخرجه النسائي (8212) عن محمود بن غيلان، عن أبي داود الطيالسي، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 5771] [ترقيم الشركة 5717] [ترقيم العلميه 5667]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) رجاله ثقات، وتفرَّد به الأشتر: وهو مالك بن الحارث النخعي، أحد الأشراف، لكن سئل الإمام أحمد: يُروَى عنه؟ قال: لا. أبو داود الطيالسي: هو سليمان بن داود. وأخرجه النسائي (8212) عن محمود بن غيلان، عن أبي داود الطيالسي، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں، مگر اس میں "الاشتر" منفرد ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: اشتر سے مراد مالک بن حارث النخعی ہیں جو کہ اشراف (سرداروں) میں سے تھے، لیکن امام احمد سے پوچھا گیا کہ "کیا ان سے روایت لی جا سکتی ہے؟" تو انہوں نے فرمایا: "نہیں۔" راوی "ابو داود طیالسی" سے مراد سلیمان بن داود ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (8212) نے محمود بن غیلان کے واسطے سے ابو داود طیالسی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (5777) من طريق عمرو بن مرزوق عن شعبة.
نوٹ / توضیح: یہ روایت مصنف کے ہاں آگے نمبر (5777) پر عمرو بن مرزوق کے طریق سے (جو شعبہ سے روایت کرتے ہیں) آئے گی۔
وأخرجه أحمد 28/ (16821) عن محمد بن جعفر، عن شعبة، غير أنه قال: عن الأشتر، قال: كان بين عمار وبين خالد بن الوليد … فذكره مرسلًا. وانظر الروايات التالية له.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (28/ 16821) نے محمد بن جعفر کے طریق سے، شعبہ سے روایت کیا ہے، مگر انہوں نے (متن میں) کہا: اشتر سے مروی ہے کہ: "عمار اور خالد بن ولید کے درمیان (کچھ بات) ہوئی..." پس اسے "مرسل" ذکر کیا۔ اس کے بعد آنے والی روایات بھی دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5771 سے ماخوذ ہے۔