کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو ’’طلحہ فیاض‘‘ کہلانے کی وجہ کا بیان
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن رَجَاء، حدثنا إبراهيم بن المُنذِر الحِزَامي، حدثنا محمد بن طلحة، عن إسحاق بن يحيى بن طلحة، عن عمِّه موسى بن طلحة: أنَّ طلحةَ نَحَر جَزُورًا، وحفَر بئرًا يومَ ذي قَرَدٍ، فأطعَمَهُم وسقَاهُم، فقال النبيُّ ﷺ: "يا طلحةُ الفَيّاضُ"، فسُمِّي طلحةَ الفَيّاضَ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5604 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5604 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے ذی قرد کے دن ایک اونٹ ذبح کیا اور ایک کنواں کھودا، پھر لوگوں کو کھانا کھلایا اور پانی پلایا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے طلحہ! تم تو فیاض (بہت زیادہ سخاوت کرنے والے) ہو“، چنانچہ ان کا نام ”طلحہ الفیاض“ مشہور ہو گیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا سُليمان بن أيوبَ بن سليمان بن عيسى بن مُوسى بن طلحة بن عبيد الله، حدثني أبي، عن جدِّي، عن (1) موسى بن طلحة، عن أبيه طلحة (2) بن عبيد الله قال: سمّاني رسول الله ﷺ يوم أُحُد طلحةَ الخَيرِ، وفي غزوة العُشَيرة الفَيّاضَ، ويومَ حُنينٍ طلحةَ الجُودِ (1). ذكرُ (2) مناقب محمد بن طلحة بن عُبيد الله السَّجاد ﵄ كان محمدُ بن طَلْحة من الزُّهّاد المُجتهدِين في العِبادة، وكان أصحابُ رسول الله ﷺ يَتبرّكون به وبدُعائه، وهو أول مِن لُقِّب بالسَّجَّاد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5605 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5605 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا موسیٰ بن طلحہ اپنے والد سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے میرا نام غزوہ احد کے دن ”طلحہ الخیر“ (بھلائی والا طلحہ)، غزوہ عشیرہ میں ”الفیاض“ (فیض و کرم کرنے والا) اور غزوہ حنین کے دن ”طلحہ الجود“ (جود و سخا والا طلحہ) رکھا تھا۔
محمد بن طلحہ بن عبید اللہ السجاد رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر:
محمد بن طلحہ عبادت میں انتہا درجہ کی محنت کرنے والے زاہدین میں سے تھے، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ان کی ذات اور ان کی دعا سے برکت حاصل کیا کرتے تھے، اور وہ پہلے شخص ہیں جنہیں کثرتِ سجود کی بنا پر «السجاد» کا لقب دیا گیا۔
محمد بن طلحہ بن عبید اللہ السجاد رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر:
محمد بن طلحہ عبادت میں انتہا درجہ کی محنت کرنے والے زاہدین میں سے تھے، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ان کی ذات اور ان کی دعا سے برکت حاصل کیا کرتے تھے، اور وہ پہلے شخص ہیں جنہیں کثرتِ سجود کی بنا پر «السجاد» کا لقب دیا گیا۔