المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ السَّجَّادِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا – كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ مِنَ الزُّهَّادِ الْمُجْتَهِدِينَ فِي الْعِبَادَةِ ، وَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَبَرَّكُونَ بِهِ وَبِدُعَائِهِ ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ لُقِّبَ بِالسَّجَّادِ ، حَدَّثَنَا بِصِحَّةِ ذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ كَمَا قَدَّمْتُ ذِكْرَهُ . باب: محمد بن طلحہ بن عبیداللہ سجاد رضی اللہ عنہ کے فضائل محمد بن طلحہ عبادت گزار نیک لوگوں میں سے تھے ، نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کرام ان کی ذات سے اور ان کی دعاء سے برکت حاصل کیا کرتے تھے ، یہ وہ پہلے شخص ہیں جن کو ’’ سجاد ‘‘ کے لقب سے ملقب کیا گیا ۔ اس کے صحیح ہونے کا ثبوت ہمیں ابوعبداللہ الاصفہانی نے دیا ہے ۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی اس کا ذکر کر چکے ہیں ۔
حدیث نمبر: 5705
حدثنا بصِحّة ذلك أبو عبد الله الأصبَهاني كما قدّمتُ ذِكرَه (3).
حافظ طلحہ بابر
ابو عبداللہ الاصبہانی نے اس (پچھلی روایت) کی صحت کے متعلق ویسے ہی بیان کیا ہے جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) يعني بسنده المعروف إلى محمد بن عمر الواقدي صاحب "المغازي" المشهورة. وفي "الطبقات الكبرى" لابن سعد 7/ 58 عن شيخه محمد بن عمر الواقدي، قال: كان محمد بن طلحة يُسمَّى السَّجّادَ لعبادته وفضله في نفسِه. هذا ما ذكره عنه لم يزد عليه ممّا هو في هذه الرواية.
نوٹ / توضیح: (3) یعنی اپنی معروف سند کے ساتھ جو مشہور "مغازی" کے مصنف محمد بن عمر الواقدی تک پہنچتی ہے۔ ابن سعد نے "الطبقات الکبریٰ" 7/ 58 میں اپنے شیخ محمد بن عمر الواقدی سے نقل کیا ہے، انہوں نے کہا: "محمد بن طلحہ کو ان کی عبادت اور ذاتی فضل کی وجہ سے 'سجاد' کہا جاتا تھا۔" انہوں نے واقدی سے صرف اتنا ہی ذکر کیا ہے اور اس روایت میں جو مزید تفصیل ہے وہ بیان نہیں کی۔
نوٹ / توضیح: (3) یعنی اپنی معروف سند کے ساتھ جو مشہور "مغازی" کے مصنف محمد بن عمر الواقدی تک پہنچتی ہے۔ ابن سعد نے "الطبقات الکبریٰ" 7/ 58 میں اپنے شیخ محمد بن عمر الواقدی سے نقل کیا ہے، انہوں نے کہا: "محمد بن طلحہ کو ان کی عبادت اور ذاتی فضل کی وجہ سے 'سجاد' کہا جاتا تھا۔" انہوں نے واقدی سے صرف اتنا ہی ذکر کیا ہے اور اس روایت میں جو مزید تفصیل ہے وہ بیان نہیں کی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5705 سے ماخوذ ہے۔