أخبرَناهُ أبو الفضل الفقيه، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدّارمي، أخبرنا عبد الله بن عبد الجبار الخَبَائري بحِمصَ، حَدَّثَنَا الحارث بن عَبِيدة، حَدَّثَنَا الزُّهري، عن سالم، عن أبيه، عن عامر بن ربيعة، قال: كنا مع رسولِ الله ﷺ فَمَرَّ بجِنازةٍ، فقال رجلٌ من اليهود: يا محمدُ، تَكَلَّمُ هذه الجِنازةُ؟ فسكتَ رسولُ الله ﷺ، فقال اليهوديُّ: أنا أشهَدُ أنها تَكَلَّمُ، فقال رسول الله ﷺ: "إذا حَدَّثكم أهلُ الكِتابِ حديثًا فقُولُوا: آمَنّا بالله وملائكتِه وكُتُبِه ورُسُلِه" (2).
هذا حديث يُعرَف بالحارث بن عَبِيدة الرُّهَاوي عن الزُّهري، وقد كتَبْناه في آخر نسخةٍ ليونس بن (1) يزيد عن الزُّهْري:
هذا حديث يُعرَف بالحارث بن عَبِيدة الرُّهَاوي عن الزُّهري، وقد كتَبْناه في آخر نسخةٍ ليونس بن (1) يزيد عن الزُّهْري:
حافظ طلحہ بابر
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے اور وہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک جنازہ گزرا، تو یہودیوں میں سے ایک شخص نے پوچھا: ”اے محمد! کیا یہ جنازہ کلام کرتا ہے؟“ رسول اللہ ﷺ خاموش رہے۔ یہودی نے کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ کلام کرتا ہے۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اہلِ کتاب تمہیں کوئی بات بتائیں، تو تم (نہ ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب، بلکہ) کہو: ہم اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔“
یہ حدیث حارث بن عبیدہ رہاوی کے واسطے سے زہری سے معروف ہے، اور ہم نے اسے یونس بن یزید کی زہری سے مروی نسخے کے آخر میں لکھا ہے:
یہ حدیث حارث بن عبیدہ رہاوی کے واسطے سے زہری سے معروف ہے، اور ہم نے اسے یونس بن یزید کی زہری سے مروی نسخے کے آخر میں لکھا ہے:
حَدَّثَنَا أبو القاسم عبد الله بن محمد الجُرْجاني بنَيسابُورَ، حَدَّثَنَا القاسمُ بن عبد الله بن مَهْدِيّ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا رجلٌ قد سمَّاه أبو القاسم [القاسمَ] (2) ابنَ مَبْرور، حَدَّثَنَا يونُس بن يزيد (3)، عن الزُّهْري، قال: قال سالمٌ: إِنَّ عبد الله بن عُمر قال حينَ وُضِعَت جِنازةُ رافع بن خَدَيجٍ، وذكرَ الحديث (4). ذكرُ مناقب حَوَارِيِّ رسولِ الله ﷺ وابن عمَّتِه الزُّبَيْرِ بن العَوَّام بن خُويلِد بن أَسَد بن عبد العُزَّى بن قُصَيّ
حافظ طلحہ بابر
یونس بن یزید زہری سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: سالم نے بیان کیا کہ یقیناً عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جب رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا جنازہ رکھا گیا، تو فرمایا... اور پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
رسول اللہ ﷺ کے حواری اور آپ کی پھوپھی کے بیٹے زبیر بن عوام بن خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان۔
رسول اللہ ﷺ کے حواری اور آپ کی پھوپھی کے بیٹے زبیر بن عوام بن خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان۔