کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سورۂ براءت (سورۂ توبہ) — سب سے پہلے اسلام ظاہر کرنے والوں کے نام، جو سات تھے
أخبرني الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عُبيد بن شَريك، حَدَّثَنَا عبد الوهاب بن نَجْدةَ الحَوْطي، حَدَّثَنَا بَقيّة بن الوليد، عن حَرِيز بن عثمان، قال: حدثني عبد الرحمن بن مَيْسَرَة الحَضْرَمي، حدثني أبو راشد الحُبْراني، قال: رأيتُ المِقدادَ بنَ الأسود حارِسَ رسولِ الله ﷺ جالسًا على تابُوتٍ من تَوابِيتِ الصَّيارِفة بحِمْص، قد أفضَلَ على التابوتِ من عِظَمِه، يريدُ الغَزْوَ، فقلتُ له: لقد أعذَرَ اللهُ إليك، فقال: أبَتْ علينا سورةُ البَحُوثِ: ﴿انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [التوبة: 41]، قال بَقيّة: سورةُ البَحُوث: سورةُ التوبة (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد ذكرتُ في أول مناقب أبي بكر الصَّدّيق ﵁ (1) حديثَ عبد الله بن مسعود: أولُ مَن أظهَرَ إسلامَه سبعةٌ: رسولُ الله ﷺ وأبو بكر وعمّار وأمُّه سُميَّة وصُهيب وبِلال والمِقداد.
حافظ طلحہ بابر
ابو راشد حبرانی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے پہرے دار سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو حمص میں صرافوں کے ایک صندوق پر بیٹھے دیکھا، وہ اپنی جسامت کی وجہ سے صندوق سے باہر نکل رہے تھے (یعنی ان کا جسم بھاری تھا)، اور ان کا ارادہ جہاد پر جانے کا تھا۔ میں نے ان سے کہا: ”(آپ کی عمر اور وزن کی وجہ سے) اللہ تعالیٰ نے آپ کو تو عذر دے رکھا ہے۔“ انہوں نے فرمایا: ”سورۃ البحوث (یعنی سورۃ التوبہ) نے ہم پر یہ عذر ماننے سے انکار کر دیا ہے، (جس میں اللہ کا فرمان ہے): ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ ”تم نکلو، خواہ ہلکے ہو یا بوجھل۔“ [سورة التوبة: 41] راوی بقیہ کہتے ہیں کہ سورۃ البحوث سے مراد سورۃ التوبہ ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اور میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب کے شروع میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بیان کر چکا ہوں کہ: سب سے پہلے جن سات لوگوں نے اپنے اسلام کا اعلانیہ اظہار کیا، وہ رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمار، ان کی والدہ سمیہ، صہیب، بلال اور مقداد (رضی اللہ عنہم) تھے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5578
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل بقيّة بن الوليد، وقد صرّح بسماعه عند غير المصنّف فأُمن تدليسه. وهو متابع فيما تقدَّم عند المصنّف برقم (2583) و (3321).» [ترقيم الرساله 5578] [ترقيم الشركة 5532]
حَدَّثَناهُ أبو بكر بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا محمد بن أحمد بن النَّضْر، حَدَّثَنَا معاوية بن عمرو، حَدَّثَنَا زائدة، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن عبد الله (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5488 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عاصم، زر سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سابقہ (ابتدا میں اسلام لانے والے سات افراد کی) حدیث کی طرح روایت کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5579
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل عاصم: وهو ابن أبي النَّجُود. وقد تقدَّم برقم (5321) من طريق الحُسين بن علي الجُعْفي عن زائدة.» [ترقيم الرساله 5579] [ترقيم الشركة 5534] [ترقيم العلميه 5488]