حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا أُميّة بن خالد، عن شُعبة، عن سعد بن إبراهيم، قال: قَدِمَ المِقدادُ بنُ الأسود، فقال: لأُحالِفنَّ أعزَّ أهلِها؛ فحالف الأسودَ بن عبد يَغُوث، وقيل: مِقدادُ بن الأسود، وإنما هو مِقدادُ بن عمرو البَهْراني، وليس بابن الأسود الكِنْدي (1).
حافظ طلحہ بابر
سعد بن ابراہیم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ (مکہ) آئے تو انہوں نے کہا: ”میں اس شہر کے سب سے معزز شخص کا حلیف بنوں گا۔“ چنانچہ وہ اسود بن عبد یغوث کے حلیف بن گئے۔ راوی کہتے ہیں: انہیں مقداد بن اسود کہا گیا، حالانکہ وہ دراصل مقداد بن عمرو بھرانی ہیں، اور ابن اسود کندی نہیں ہیں۔
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي بمَرُو، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن مُخارقٍ، عن طارِقٍ، عن عبد الله، قال: شَهِدتُ من المقداد مشهدًا لأن أكونَ صاحِبَه أَحبُّ إليَّ مما عُدِلَ؛ أنه أتى النَّبِيّ ﷺ وهو يدعُو على المشركين، فقال: إنا واللهِ يا رسولَ الله لا نقولُ كما قال قومُ موسى لموسى: ﴿اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ﴾ [المائدة: 24] ولكنا نقاتلُ عن يَمينِك وعن شِمالِك، ومن بين يَدَيك ومن خَلْفِك، فرأيتُ النَّبِيَّ ﷺ يُشرِقُ لذلك، وسَرَّهُ ذلك (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5486 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5486 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے مقداد رضی اللہ عنہ کا ایک ایسا کارنامہ دیکھا کہ اگر میں اس کا حصہ ہوتا تو یہ مجھے ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہوتا جس کے بدلے اسے خریدا جا سکتا ہے۔ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس اس وقت آئے جب آپ مشرکین کے خلاف دعا فرما رہے تھے۔ مقداد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم، اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے وہ بات نہیں کہیں گے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے ان سے کہی تھی: ﴿اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ﴾ ”تم اور تمہارا رب جاؤ اور لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔“ [سورة المائدة: 24] بلکہ ہم آپ کے دائیں، بائیں، آگے اور پیچھے سے (دشمنوں کے خلاف) لڑیں گے۔“ عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا اس بات پر نبی کریم ﷺ کا چہرہ مبارک چمک اٹھا اور انہیں اس سے بہت خوشی ہوئی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا!
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا!