أخبرنا الشيخ الإمام أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن نُمير، قال: المِقدادُ بن الأسود، ويُكنى أبا مَعْبَد، مات سنة ثلاثين، بلغ نحوًا من سبعين سنةً، وكان يُصفِّر لِحْيتَه، مات بالجُرْفِ، فحُمِل على رِقاب الرِّجال، وصلَّى عليه عثمانُ بن عفّان ﵁، ودُفِن بالبقيع (1).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں کہ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو معبد تھی۔ انہوں نے تیس (30) ہجری میں وفات پائی، اور ان کی عمر تقریباً ستر سال تک پہنچی۔ وہ اپنی ڈاڑھی کو زرد خضاب لگاتے تھے۔ ان کا انتقال مقامِ جرف میں ہوا، جہاں سے انہیں لوگوں کے کاندھوں پر اٹھا کر (مدینہ) لایا گیا، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی، اور انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهَاني، حَدَّثَنَا الحَسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحُسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عُمر، قال: المِقداد بن عَمرو بن ثَعْلبة بن مالك بن رَبيعة، وذَكَر إلى قُضَاعةَ، كان يُكنى أبا مَعْبَد، وكان حالَفَ الأسودَ بن عبد يَغُوث الزُّهْرِيّ في الجاهلية، فتبنّاه، وكان يقال له: المِقداد بن الأسوَد، فلما نزل القرآن ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ﴾ [الأحزاب: 5] قيل له: المِقداد بن عَمرو. وهاجَرَ المِقدادُ إلى أرض الحبشة الهجرةَ الثانيةَ في رواية ابن إسحاق، وشهد المقداد بدرًا وأحدًا والخَندق والمَشاهِدَ كلَّها مع رسولِ الله ﷺ، وكان من الرُّمَاة المذكُورين من أصحابِ رسول الله ﷺ (1).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ مقداد بن عمرو بن ثعلبہ بن مالک بن ربیعہ (ان کا نسب ہے)، اور راوی نے قضاعہ تک ان کا نسب ذکر کیا۔ ان کی کنیت ابو معبد تھی۔ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں اسود بن عبد یغوث زہری کے ساتھ حلف (معاہدہ) کیا تھا اور اس نے انہیں منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا، جس کی وجہ سے انہیں مقداد بن اسود کہا جاتا تھا۔ پھر جب قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ﴾ ”ان (منہ بولے بیٹوں) کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارو“ [سورة الأحزاب: 5] تو انہیں مقداد بن عمرو کہا جانے لگا۔ ابن اسحاق کی روایت کے مطابق، مقداد رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی طرف دوسری ہجرت کی تھی۔ انہوں نے غزوہ بدر، احد، خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ شرکت کی تھی، اور ان کا شمار رسول اللہ ﷺ کے مشہور تیر انداز صحابہ میں ہوتا تھا۔
قال ابن عُمر: حَدَّثَنَا موسى بن يعقوب، عن عَمَّتِه [عن أمّها] (2) كريمةَ بنت المِقداد: أنها وَصَفَتْ أباها لهم، فقالت: كان رجُلًا طوالًا، آدمَ، أَبْطَنَ، كثيرَ شَعر الرأسِ، يُصفِّرُ لِحْيتَه، وهي حَسَنةٌ ليست بالعَظيمةِ ولا بالخَفِيفَةِ، أَعْيَنَ مَقْرُونَ الحاجِبَين، أَقْنَى. قالت: ومات المقدادُ بالجُرْف على ثلاثة أميالٍ من المدينة، فحُمل على رِقاب الرجال، ودُفن بالمدينة، وصلَّى عليه عثمانُ بن عفّان، وذلك سنة ثلاثٍ وثلاثين، وكان يومَ ماتَ ابنَ سبعين سنةً أو نحوَها (3).
حافظ طلحہ بابر
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ بن یعقوب اپنی پھوپھی سے، وہ ان کی والدہ سے اور وہ کریمہ بنت مقداد سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے لوگوں کے سامنے اپنے والد (مقداد رضی اللہ عنہ) کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”وہ دراز قد، گندمی رنگت اور بڑے پیٹ والے تھے۔ ان کے سر کے بال گھنے تھے، وہ اپنی ڈاڑھی کو زرد خضاب لگاتے تھے، ان کی ڈاڑھی خوبصورت تھی جو نہ بہت گھنی تھی اور نہ بہت ہلکی تھی۔ ان کی آنکھیں بڑی، بھنویں آپس میں ملی ہوئی اور ناک کھڑی تھی۔“ کریمہ بنت مقداد مزید فرماتی ہیں: ”مقداد رضی اللہ عنہ کا انتقال مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر مقامِ جرف میں ہوا، انہیں لوگوں کے کاندھوں پر اٹھا کر لایا گیا اور مدینہ میں دفن کیا گیا۔ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی، یہ تینتیس (33) ہجری کا واقعہ ہے، اور جس دن ان کی وفات ہوئی ان کی عمر ستر سال کے لگ بھگ تھی۔“
قال ابن عُمر: وحدثني محمدٌ عن عاصمِ بن عُمر، وعبدُ الله بنُ جعفر، بالمُؤاخاة: أنَّ رسول الله ﷺ آخَى بين المِقدادِ وجُبيرِ (4) بن عَتِيك (5).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5484 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5484 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
محمد نے عاصم بن عمر اور عبداللہ بن جعفر سے مواخات (بھائی چارہ قائم کرنے) کے حوالے سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مقداد اور جبیر بن عتیک رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا تھا۔