المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
حلية المقداد بن عمرو باب: سیدنا مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ کی وضع قطع کا بیان
حدیث نمبر: 5576
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا أُميّة بن خالد، عن شُعبة، عن سعد بن إبراهيم، قال: قَدِمَ المِقدادُ بنُ الأسود، فقال: لأُحالِفنَّ أعزَّ أهلِها؛ فحالف الأسودَ بن عبد يَغُوث، وقيل: مِقدادُ بن الأسود، وإنما هو مِقدادُ بن عمرو البَهْراني، وليس بابن الأسود الكِنْدي (1).
حافظ طلحہ بابر
سعد بن ابراہیم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ (مکہ) آئے تو انہوں نے کہا: ”میں اس شہر کے سب سے معزز شخص کا حلیف بنوں گا۔“ چنانچہ وہ اسود بن عبد یغوث کے حلیف بن گئے۔ راوی کہتے ہیں: انہیں مقداد بن اسود کہا گیا، حالانکہ وہ دراصل مقداد بن عمرو بھرانی ہیں، اور ابن اسود کندی نہیں ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) مرسلٌ رجاله ثقات. سعد بن إبراهيم: هو ابن عبد الرحمن بن عوف.
درجۂ حدیث: یہ روایت "مرسل" ہے لیکن اس کے تمام راوی "ثقہ" ہیں۔
اہم نکتہ: سعد بن ابراہیم سے مراد سعد بن ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف ہیں۔
درجۂ حدیث: یہ روایت "مرسل" ہے لیکن اس کے تمام راوی "ثقہ" ہیں۔
اہم نکتہ: سعد بن ابراہیم سے مراد سعد بن ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5576 سے ماخوذ ہے۔