حدیث نمبر: 5572
أخبرنا الشيخ الإمام أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن نُمير، قال: المِقدادُ بن الأسود، ويُكنى أبا مَعْبَد، مات سنة ثلاثين، بلغ نحوًا من سبعين سنةً، وكان يُصفِّر لِحْيتَه، مات بالجُرْفِ، فحُمِل على رِقاب الرِّجال، وصلَّى عليه عثمانُ بن عفّان ﵁، ودُفِن بالبقيع (1).
حافظ طلحہ بابر

محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں کہ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو معبد تھی۔ انہوں نے تیس (30) ہجری میں وفات پائی، اور ان کی عمر تقریباً ستر سال تک پہنچی۔ وہ اپنی ڈاڑھی کو زرد خضاب لگاتے تھے۔ ان کا انتقال مقامِ جرف میں ہوا، جہاں سے انہیں لوگوں کے کاندھوں پر اٹھا کر (مدینہ) لایا گیا، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی، اور انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5572
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5572] [ترقيم الشركة 5526]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذلك جاء في نسخنا من "المستدرك" عن ابن نمير ذكر وفاة المقداد سنة ثلاثين، وجاء في "تاريخ العلماء ووفياتهم" لابن زَبْر الرَّبَعي 1/ 122 انَّ المقداد مات سنة ثلاث وثلاثين، والرَّبَعي يروي أخبار ابن نمير من طريقين كما بيَّنه في فاتحة كتابه، وهما: طريق محمد بن عبد الله بن سليمان الحضرمي، وطريق محمد بن إسماعيل الترمذي، كلاهما عن ابن نمير. فربما تكون لفظة "ثلاث" سقطت على بعض النُّساخ قديمًا.
نوٹ / توضیح: اسی طرح "المستدرک" کے ہمارے پاس موجود نسخوں میں ابن نمیر (محمد بن عبد اللہ بن نمیر) کے حوالے سے حضرت مقداد کی وفات 30 ہجری مذکور ہے، جبکہ ابن زبر الربعی کی "تاريخ العلماء ووفياتهم" (1/ 122) میں وفات 33 ہجری بتائی گئی ہے۔ الربعی نے اپنے مقدمہ کتاب کے مطابق ابن نمیر کی اخبار دو طرق سے روایت کی ہیں: ایک محمد بن عبد اللہ بن سلیمان الحضرمی اور دوسرا محمد بن اسماعیل الترمذی، اور یہ دونوں ہی ابن نمیر سے روایت کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید قدیم کاتبوں سے لفظ "ثلاث" (تین) لکھنے میں رہ گیا ہو۔
والجُرْف: موضع كان يقع شمال المدينة، وهو الآن حيٌّ من أحيائها متصلٌّ بها، فيه زراعة وسُكّان.
نوٹ / توضیح: "الجرف" مدینہ منورہ کے شمال میں واقع ایک مقام تھا، جو اب مدینہ ہی کا ایک متصل محلہ بن چکا ہے، جہاں کھیتی باڑی اور آبادی موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5572 سے ماخوذ ہے۔