کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: آسمان نے کسی کو سایہ نہیں دیا اور زمین نے کسی کو اٹھایا نہیں جو سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے زیادہ سچی زبان والا ہو
أخبرنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المُزَني، حدثنا أحمد بن سلَمة، حدثنا العباس بن عبد العظيم العَنْبري، حدثنا النَّضر بن محمد، حدثنا عِكْرمة بن عمار، حدثنا أبو زُمَيل، عن مالك بن مَرثد، عن أبيه، عن أبي ذرٍّ، قال: قال رسولُ الله ﷺ: "ما تُقِلُّ الغَبْراءُ، ولا تُظِلُّ الخَضْراء من ذِي لَهْجةٍ أصدقَ ولا أوفَى مِن أبي ذرٍّ، شَبيهِ عيسى ابن مريم"، فقام عمرُ بنُ الخطاب فقال: يا رسول الله، فنعرفُ ذلك له؟ قال: "نعم، فاعرِفُوه له" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه. وقد رُويَ عن عبد الله بن عَمرو، وأبي الدَّرْداء. أما حديث عبد الله بن عمرو:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5460 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه. وقد رُويَ عن عبد الله بن عَمرو، وأبي الدَّرْداء. أما حديث عبد الله بن عمرو:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5460 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
مالک بن مرثد اپنے والد سے اور وہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خاکی زمین نے کسی ایسے شخص کو نہیں اٹھایا اور نیلے آسمان نے کسی ایسے شخص پر سایہ نہیں کیا جو ابوذر سے بڑھ کر سچی زبان والا اور وعدے کا پکا ہو، وہ عیسیٰ بن مریم کے مشابہ ہیں۔“ یہ سن کر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان کے لیے اس مقام کو تسلیم کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، تم ان کے لیے یہ مقام پہچانو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث یہ ہے:
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث یہ ہے:
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا أبو يحيى الحِمّاني، عن الأعمش. وأخبرني بكر بن محمد الصَّيرَفي، حدثنا أبو قِلابَة، حدثنا يحيى بن حمّاد، حدثنا أبو عَوَانة، عن سليمان الأعمش، عن عثمان بن قيس البَجَلي، عن أبي حَرْب الدِّيلِي قال: سمعتُ عبدَ الله بن عَمرو يقول: سمعتُ النبيَّ ﷺ يقول: "ما أظلَّتِ الخَضْراءُ، ولا أقلّتِ الغَبْراءُ على رجلٍ أصدقَ لَهْجةً من أبي ذرٍّ" (1). وأما حديث أبي الدَّرْداء:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5461 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5461 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابو حرب دیلی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”آسمان نے کسی ایسے شخص پر سایہ نہیں کیا اور زمین نے کسی ایسے شخص کو نہیں اٹھایا جو ابوذر سے بڑھ کر سچی زبان والا ہو۔“
اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کی حدیث یہ ہے:
اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کی حدیث یہ ہے:
فحدَّثَناهُ الشيخُ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن بلال بن أبي الدَّرداء، عن أبي الدَّرداء، قال: قال رسول الله ﷺ: "ما أظلَّتِ الخَضْراءُ، ولا أَقَلَّتِ الغَبْراءُ من ذي لَهجةٍ أصدقَ من أبي ذرٍّ" (1). محنةُ أبي ذرٍّ ﵁ - قد صَحَتِ الروايةُ من أَوجُه عن مصعبِ بن سعد بن أبي وقّاصٍ عن أبيه عن النبي ﷺ أنه قال: "أشدُّ الناس بلاءً الأنبياءُ، ثم العلماءُ، ثم الأمثَلُ فالأمثَلُ" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5462 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5462 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
بلال بن ابی الدرداء اپنے والد سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آسمان نے کسی ایسے شخص پر سایہ نہیں کیا اور زمین نے کسی ایسے شخص کو نہیں اٹھایا جو ابوذر سے بڑھ کر سچی زبان والا ہو۔“
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی آزمائش کا بیان: مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے، وہ اپنے والد سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے کئی صحیح اسناد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں میں سب سے سخت آزمائش انبیاء کی ہوتی ہے، پھر علماء کی، پھر جو ان سے زیادہ درجے میں قریب ہو، پھر جو ان سے زیادہ قریب ہو۔“
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی آزمائش کا بیان: مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے، وہ اپنے والد سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے کئی صحیح اسناد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں میں سب سے سخت آزمائش انبیاء کی ہوتی ہے، پھر علماء کی، پھر جو ان سے زیادہ درجے میں قریب ہو، پھر جو ان سے زیادہ قریب ہو۔“