کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: قریش کا سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو مارنا اور ان کا پردوں اور عمارتوں کے درمیان چھپ جانا
أخبرناهُ أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا أحمد بن إبراهيم القُرشي بدمشق، حدثنا محمد بن عائذ الدمشقي، حدثني الوليد بن مُسلم، حدثنا أبو طَرَفة عَبّادُ بن الرَّيَّان اللَّخمي، قال: سمعتُ عُروة بن رُوَيمِ اللَّخمِي الأَشْعَرِي يقول: حدثني عامر بن لُدَين الأشْعَري - وكان مع عبد الملك بن مروان - قال: سمعتُ أبا ليلى الأشعريَّ يقولُ: حدثني أبو ذَرٍّ، قال: إنَّ أول ما دَعاني إلى الإسلام أنّا كنّا قومًا عَرَبًا فأصابتنا السَّنَةُ، فاحتملتُ أمّي وأخي - وكان اسمُه أُنيسًا - إلى أصهارٍ لنا بأعلى نَجْد، فلما حَلَلْنا بهم أكرمُونا، فلما رأى ذلك رجلٌ من الحيِّ مشَى إلى خالي، فقال: تَعلَمُ أَنَّ أُنيسًا يُخالِفُك إلى أهلِك؟ قال: فحَنِق في قلبه، فانصرفتُ في رِعْية إبلي، فوجدتُه كَئيبًا يبكي، فقلتُ: ما بُكَاكَ يا خالِ؟ فأعلَمني الخبرَ، فقلتُ: حَجَرَ (1) اللهُ من ذلك، إنَّا نخافُ الفاحشةَ، وإن كان الزمانُ قد أخلَّ بنا، ولقد كَدَّرتَ علينا صَفْوَ ما ابتدأتنا به، ولا سبيلّ إلى اجتماعٍ، فاحتملْتُ أمي وأخي حتى نَزَلْنا بحضرة مكة، فقال أخي: إني رجلٌ مُدافِعٌ على الماء بشعر، وكان رجلًا شاعرًا، فقلتُ: لا تفعل، فخرج به اللَّجَاجُ حتى دافَعَ دُرَيدَ بن الصِّمَّة صِرْمَتَهُ (2) إلى صِرْمتِه، وايمُ الله لَدُرَيدٌ يومئذٍ أشعرُ من أخي، فتقاضَيا إلى خَنْساءَ (3)، ففضَّلَتْ أخي على دُرَيْدٍ، وذلك أنَّ دُرَيدًا خطبَها إلى أبيها، فقالت: شيخٌ كبيرٌ لا حاجةَ لي فيه، فحَقَدَت عليه، فضَمَمْنا صِرْمته إلى صِرْمَتِنا، فكانت لنا هَجْمةٌ. قال: ثم أتيتُ مكةَ، فابتدأتُ بالصَّفا، فإذا عليها رجالاتُ قُريش، وقد بلغني أنَّ بها صابئًا أو مجنُونًا أو شاعرًا أو ساحرًا، فقلت: أين هذا الذي تَزعُمُونَهُ؟ فقالوا: ها هو ذاك حيثُ تَرى، فانقَلبْتُ إليه، فوالله ما جُزْتُ عنهم قِيدَ حَجَر حتى أكَبُّوا عَلَيَّ كلَّ عَظْم وحَجَر ومَدَر، فضَرَّجُوني بدَمي، وأتيتُ البيت فدخلتُ بين السُّتور والبناء، وصُمْتُ فيه ثلاثين يومًا لا أكُلُ ولا أشربُ إلَّا من ماءِ زَمزمَ حتى كانت ليلةٌ قَمْراءُ إضْحِيانٌ أقبلتِ امرأتانِ من خُزاعةَ طافَتا بالبيت، ثم ذَكَرتا إسافًا ونائلةَ - وهما وَثَنانِ كانوا (4) يعبُدونهما - فأخرجتُ رأسي من تحت السُّتور، فقلتُ: احمِلا أحدَهما على صاحبه؟ فغَضِبَتا ثم قالتا: أمَ والله لو كانت رجالُنا حُضُورًا ما تكلَّمتَ بهذا، ثم وَلَّتا، فخرجتُ أقْفُو آثارَهُما، حتى لَقِيَتا رسول الله ﷺ، فقال: "ما أنتُما؟ ومن أين أنتُما؟ ومن أين جئتُما؟ وما جاء بِكُما؟ "، فأخبرَتاهُ الخَبَر، فقال: "أين تركتُما الصابئ؟ " فقالتا: تركناهُ بين السُّتور والبِناء، فقال لهما: "هل قال لكما شيئًا؟ " قالتا: نعم، وأقبلتُ حتى جئتُ رسول الله ﷺ، ثم سلَّمتُ عليه عند ذلك، فقال: "مَن أنتَ؟ وممَّن أنتَ؟ ومن أين أنتَ؟ ومن أين جئتَ؟ وما جاء بك؟ " فأنشأتُ أُعْلِمُه الخَبَر، فقال: "من أين كنتَ تأكُلُ وتشربُ؟ " فقلتُ: من ماء زمزم، فقال: "أما إنه طعامُ طُعْم"، ومعه أبو بكرٍ فقال: يا رسول الله، ائذن لي أن أُعشِّيَه، قال: "نعم"، ثم خرجَ رسولُ الله ﷺ يمشي، وأخذ أبو بكرٍ بيدي، حتى وَقَفَ رسول الله ﷺ باب أبي بكر، ثم دخل أبو بكر بيتَه، ثم أتى بزبيبٍ من زَبيب الطائف، فجعل يُلقيه لنا، قبضًا قبضًا، ونحن نأكلُ منه حتى تملَّأنا منه. فقال لي رسول الله ﷺ: "يا أبا ذرِّ" فقلتُ: لبَّيك، فقال لي: "إنه قد رُفِعَت لي أرضٌ، وهى ذاتُ مالٍ ولا أحسَبُها إِلَّا تِهامة، فاخرُج إلى قومك فادْعُهم إلى ما دخلت فيه"، قال: فخرجتُ حتى أتيتُ أمّي وأخي، فأعلمتُهُم الخبر، فقالا: ما لنا رغبةٌ عن الدِّين الذي دخلت فيه، فأسلما، ثم خرجنا حتى أتينا المدينةَ، فأعلمتُ قومي، فقالوا: إنا قد صَدَّقناك، ولعلَّنا نلقى محمدًا، ﷺ، فلما قَدِم علينا رسولُ الله ﷺ لَقيناهُ، فقالت له غِفارٌ: يا رسول الله، إنَّ أبا ذرٍّ أعلمَنا ما أعلمتَه، وقد أسلَمْنا وشَهِدْنا أنك رسولُ الله ﷺ، ثم تَقدَّمَت أَسلَمُ خُزاعة (1)، فقالت: يا رسول الله، إنا قد رَغِبْنا ودخَلْنا فيما دخل فيه إخوانُنا وحُلفاؤنا، فقال رسول الله ﷺ: "أسلَمُ سَالَمَها اللهُ، وغِفارُ غَفَرَ اللهُ لها"، ثم أخذ أبو بكر بيدي، فقال: يا أبا ذرّ، فقلتُ: لبَّيك يا أبا بكرٍ، فقال: هل كنتَ تَألَّهُ في جاهِليَّتك؟ قلتُ: نعم، لقد رأيتني أقومُ عند الشمس، فلا أزالُ مُصلِّيًا حتى يُؤذِيَني حَرُّها، فأخِرُّ كأَنِّي خِفَاءٌ، فقال لي: فأينَ كنتَ تَوَجَّهُ؟ قلتُ: لا أدري إلَّا حيث وجَّهَني الله، حتى أدخَلَ الله عَلَيَّ الإسلام (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5457 - إسناده صالح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: میرے اسلام لانے کا ابتدائی سبب یہ تھا کہ ہم عربوں کی ایک ایسی قوم تھے کہ ہمیں سخت قحط نے آ گٹھا، چنانچہ میں اپنی والدہ اور اپنے بھائی —جن کا نام انیس تھا— کو لے کر نجد کے بالائی علاقے میں اپنے ننھیال کے پاس چلا گیا، جب ہم ان کے پاس ٹھہرے تو انہوں نے ہماری خوب تکریم کی۔ پھر اس قبیلے کے ایک شخص نے یہ دیکھ کر میرے ماموں کو ورغلایا اور کہا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ أُنَیس تمہارے گھر والوں کے پاس تمہاری مخالفت میں آتا جاتا ہے؟“ (وہ شخص جھوٹ بول رہا تھا)۔ اس بات سے ماموں کے دل میں غصہ بھر گیا، جب میں اونٹ چرا کر واپس لوٹا تو انہیں رنجیدہ اور روتے ہوئے پایا، میں نے پوچھا: ”اے ماموں! آپ کیوں رو رہے ہیں؟“ تو انہوں نے مجھے سارا قصہ سنایا۔ میں نے کہا: ”اللہ اس (الزام) سے پناہ دے، ہمیں فحاشی سے ڈر لگتا ہے چاہے زمانہ کتنا ہی ہم پر تنگی کیوں نہ کر دے، آپ نے تو اس حسنِ سلوک کے مخلصانہ آغاز کو مکدر کر دیا جس سے آپ نے ابتدا کی تھی، اب ہمارا ساتھ رہنا ممکن نہیں“۔ چنانچہ میں اپنی والدہ اور بھائی کو لے کر وہاں سے روانہ ہوا اور مکہ کے مضافات میں آ بسا۔ میرے بھائی نے کہا: ”میں اپنی شاعری کے زور پر لوگوں کو پانی کے گھاٹ سے پیچھے ہٹا دینے والا (با اثر) آدمی ہوں“، میں نے کہا: ”ایسا نہ کریں“، لیکن وہ اپنی ضد پر قائم رہے یہاں تک کہ درید بن الصمہ کے مقابلے میں اپنی اونٹنیوں کا داؤ لگا دیا۔ اللہ کی قسم! اس وقت درید میرے بھائی سے بڑے شاعر تھے، پھر وہ دونوں (فیصلے کے لیے) خنساء کے پاس گئے تو انہوں نے میرے بھائی کو درید پر فضیلت دے دی، اس کی وجہ یہ تھی کہ درید نے ان کے والد سے ان کا رشتہ مانگا تھا تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ یہ تو ایک بوڑھا شخص ہے مجھے اس کی ضرورت نہیں، اسی وجہ سے وہ درید سے بغض رکھتی تھیں۔ چنانچہ ہم نے اس کی اونٹنیوں کو اپنی اونٹنیوں کے ساتھ ملا لیا اور ہمارے پاس اونٹوں کا ایک بڑا ریوڑ جمع ہو گیا۔ (سیدنا ابو ذر کہتے ہیں) پھر میں مکہ آیا اور صفا (پہاڑی) سے آغاز کیا، وہاں قریش کے سردار بیٹھے ہوئے تھے، مجھے یہ خبر پہنچی تھی کہ مکہ میں کوئی صابی (دین بدلنے والا)، مجنون، شاعر یا جادوگر ظاہر ہوا ہے، میں نے پوچھا: ”وہ شخص کہاں ہے جس کے بارے میں تم یہ باتیں کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”وہ سامنے رہا جہاں تم دیکھ رہے ہو“۔ میں ان کی طرف مڑا، اللہ کی قسم! میں نے ان سے ایک پتھر کے فاصلے جتنا بھی تجاوز نہیں کیا تھا کہ ان لوگوں نے مجھ پر ہڈیوں، پتھروں اور مٹی کے ڈھیروں سے حملہ کر دیا اور مجھے لہولہان کر دیا۔ میں بیت اللہ آیا اور غلافِ کعبہ اور عمارت کے درمیان چھپ گیا، میں وہاں تیس دن تک مقیم رہا، زمزم کے سوا میرا کوئی کھانا پینا نہیں تھا، یہاں تک کہ ایک چاندنی اور روشن رات میں قبیلہ خزاعہ کی دو عورتیں آئیں اور بیت اللہ کا طواف کیا، پھر انہوں نے اساف اور نائلہ کا ذکر کیا—یہ وہ دو بت تھے جن کی وہ پوجا کرتے تھے—میں نے غلاف کے نیچے سے اپنا سر نکالا اور (طنزاً) کہا: ”ان میں سے ایک کو دوسرے پر سوار کر دو؟“ وہ غصے میں آ گئیں اور کہنے لگیں: ”اللہ کی قسم! اگر ہمارے مرد یہاں موجود ہوتے تو تم ایسی بات کرنے کی جرات نہ کرتے“۔ پھر وہ واپس مڑیں اور میں ان کے پیچھے پیچھے ہولیا یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے ملیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم دونوں کون ہو؟ کہاں سے آئی ہو؟ اور کس مقصد کے لیے آئی ہو؟“ انہوں نے آپ ﷺ کو سارا قصہ سنایا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم نے اس صابی کو کہاں چھوڑا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہم اسے غلافِ کعبہ اور عمارت کے درمیان چھوڑ کر آئی ہیں“۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: ”کیا اس نے تم سے کچھ کہا؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں“۔ میں آگے بڑھا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسی وقت آپ ﷺ کو سلام کیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم کون ہو؟ کس قبیلے سے ہو؟ کہاں سے اور کس لیے آئے ہو؟“ میں نے آپ ﷺ کو تمام تفصیلات سے آگاہ کیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم کیا کھاتے پیتے رہے ہو؟“ میں نے عرض کی: ”میرا گزارا صرف زمزم کے پانی پر رہا ہے“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک یہ پیٹ بھرنے والا کھانا ہے“۔ آپ ﷺ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے اجازت دیں کہ میں انہیں شام کا کھانا کھلاؤں“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے“۔ پھر رسول اللہ ﷺ چلے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ تھام لیا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر رک گئے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور طائف کی کشمش لے کر آئے اور مٹھی بھر بھر کر ہمیں دینے لگے، ہم نے وہ خوب جی بھر کر کھائی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابو ذر!“ میں نے عرض کی: ”لبیک“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے سامنے ایک ایسی سرزمین پیش کی گئی ہے جہاں کھجور کے باغات ہیں اور میرا خیال ہے کہ وہ تہامہ (مدینہ) ہی ہے، لہٰذا تم اپنی قوم کی طرف جاؤ اور انہیں اس دین کی دعوت دو جس میں تم داخل ہوئے ہو“۔ سیدنا ابو ذر کہتے ہیں کہ میں وہاں سے نکلا اور اپنی والدہ اور بھائی کے پاس آیا اور انہیں خبر دی، انہوں نے کہا: ”ہمیں بھی اس دین سے کوئی بیزاری نہیں جس میں تم داخل ہوئے ہو“، چنانچہ وہ دونوں اسلام لے آئے، پھر ہم نکلے یہاں تک کہ مدینہ پہنچے اور میں نے اپنی قوم کو خبر دی، انہوں نے کہا: ”ہم تمہاری تصدیق کرتے ہیں، شاید ہم محمد ﷺ سے ملاقات کریں“۔ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو ہم آپ ﷺ سے ملے، قبیلہ غفار نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ابو ذر نے ہمیں وہ باتیں بتائی ہیں جو آپ نے انہیں بتائی تھیں، ہم اسلام لا چکے ہیں اور گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ﷺ ہیں“، پھر اسلم قبیلے (خزاعہ) کے لوگ آگے بڑھے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم بھی اسی دین کی طرف رغبت رکھتے ہیں اور اسی میں داخل ہونا چاہتے ہیں جس میں ہمارے بھائی اور حلیف داخل ہوئے ہیں“، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” «أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللهُ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللهُ لَهَا» ”اسلم کو اللہ سلامتی عطا فرمائے اور غفار کی اللہ مغفرت فرمائے“۔“ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور پوچھا: ”اے ابو ذر!“ میں نے کہا: ”لبیک اے ابوبکر!“ انہوں نے پوچھا: ”کیا تم دورِ جاہلیت میں بھی عبادت (تألہ) کیا کرتے تھے؟“ میں نے کہا: ”ہاں، میں نے خود کو دیکھا کہ میں سورج (کے طلوع ہونے) کے وقت کھڑا ہوتا اور مسلسل نماز پڑھتا رہتا یہاں تک کہ اس کی تپش مجھے تکلیف دینے لگتی، تو میں اس طرح گر جاتا جیسے کوئی کپڑا گرتا ہے“، انہوں نے مجھ سے پوچھا: ”تم کس طرف رخ کرتے تھے؟“ میں نے کہا: ”مجھے نہیں معلوم، سوائے اس طرف کے جس طرف اللہ میرا رخ پھیر دیتا، یہاں تک کہ اللہ نے مجھے اسلام کی نعمت سے سرفراز فرما دیا“۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5547
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صالح كما قال الذهبي في "تلخيصه"
تخریج حدیث «إسناده صالح كما قال الذهبي في "تلخيصه"، فإنَّ أبا طرفة عبّاد بن الريّان صالح الحديث كما قال الذهبي في "تاريخ الإسلام" 3/ 903، وكذلك عامر بن لدين الأشعري صالح الحديث، روى عنه جمع ووثقه العجلي، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وأبو ليلى الأشعري تابعيٌّ كبير، وبعضهم ذكره الصحابة. وقد روي ...» [ترقيم الرساله 5547] [ترقيم الشركة 5500] [ترقيم العلميه 5457]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عيسى اللَّخْمي بتِنِّيسَ، حدثنا عمرو بن أبي سَلَمة، حدثنا صَدَقة بن عبد الله، عن نَصْر بن عن عَلْقمة، عن أخيه، عن ابن عائذٍ، عن جُبير بن نُفَير، قال: كان أبو ذرٍّ يقول: لقد رأيتُني رُبعَ الإسلامِ، لم يُسلِمُ قَبلي إلَّا النبيُّ ﷺ وأبو بكر وبلالٌ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5458 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
جبیر بن نفیر سے روایت ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”میں نے اپنے آپ کو اسلام کا چوتھائی حصہ پایا (یعنی اس وقت صرف چار مسلمان تھے)، مجھ سے پہلے صرف نبی کریم ﷺ، ابوبکر اور بلال رضی اللہ عنہما ہی اسلام لائے تھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5548
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف أحمد بن عيسى اللخمي
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف أحمد بن عيسى اللخمي، لكنه متابع، وصدقة بن عبد الله» [ترقيم الرساله 5548] [ترقيم الشركة 5501] [ترقيم العلميه 5458]
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا الحُسين بن محمد بن زياد، حدثنا عبد الله بن الرُّومي، حدثنا النضر بن محمد، حدثنا عِكْرمة بن عمّار، عن أبي زُمَيل سِماك بن الوليد، عن مالك بن مَرثَد، عن أبيه، عن أبي ذرٍّ، قال: كنت ربُعَ الإسلام: أسلمَ قبلي ثلاثةُ نفرٍ وأنا الرابعُ، أتيتُ النبيَّ ﷺ فقلتُ: السلامُ عليك يا رسولَ الله، أشهدُ أن لا إله إلَّا الله، وأنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه، فرأيتُ الاستِبْشار في وجهِ رسول الله ﷺ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5459 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
مالک بن مرثد اپنے والد سے اور وہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”میں اسلام کا چوتھائی حصہ تھا، مجھ سے پہلے تین افراد اسلام لائے اور میں چوتھا تھا۔ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ (یہ سن کر) میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک پر خوشی اور بشاشت کے آثار دیکھے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5549
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده محتمل للتحسين من أجل مَرْثَد - وهو ابن عبد الله الزِّمَاني ويقال: الذِّماري - فهو وإن لم يرو عنه غير ابنه مالك، تابعيٌّ ذكره ابن حبان في "الثقات" وصحَّح حديثه، ووثقه العجلي، وحسَّن الترمذيُّ له حديثَين، وصحَّح له ابن خزيمة حديثًا.» [ترقيم الرساله 5549] [ترقيم الشركة 5502] [ترقيم العلميه 5459]