المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ضَرْبُ قُرَيْشٍ أَبَا ذَرٍّ وَاخْتِفَاؤُهُ بَيْنَ السُّتُورِ وَالْبِنَاءِ باب: قریش کا سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو مارنا اور ان کا پردوں اور عمارتوں کے درمیان چھپ جانا
حدیث نمبر: 5549
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا الحُسين بن محمد بن زياد، حدثنا عبد الله بن الرُّومي، حدثنا النضر بن محمد، حدثنا عِكْرمة بن عمّار، عن أبي زُمَيل سِماك بن الوليد، عن مالك بن مَرثَد، عن أبيه، عن أبي ذرٍّ، قال: كنت ربُعَ الإسلام: أسلمَ قبلي ثلاثةُ نفرٍ وأنا الرابعُ، أتيتُ النبيَّ ﷺ فقلتُ: السلامُ عليك يا رسولَ الله، أشهدُ أن لا إله إلَّا الله، وأنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه، فرأيتُ الاستِبْشار في وجهِ رسول الله ﷺ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5459 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
مالک بن مرثد اپنے والد سے اور وہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”میں اسلام کا چوتھائی حصہ تھا، مجھ سے پہلے تین افراد اسلام لائے اور میں چوتھا تھا۔ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ (یہ سن کر) میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک پر خوشی اور بشاشت کے آثار دیکھے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده محتمل للتحسين من أجل مَرْثَد - وهو ابن عبد الله الزِّمَاني ويقال: الذِّماري - فهو وإن لم يرو عنه غير ابنه مالك، تابعيٌّ ذكره ابن حبان في "الثقات" وصحَّح حديثه، ووثقه العجلي، وحسَّن الترمذيُّ له حديثَين، وصحَّح له ابن خزيمة حديثًا.
درجۂ حدیث: (1) یہ سند مرثد کی وجہ سے حسن ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مرثد (ابن عبد اللہ زمانی یا ذماری): اگرچہ ان سے صرف ان کے بیٹے مالک نے روایت کی ہے، لیکن وہ تابعی ہیں، ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا اور ان کی حدیث کو صحیح کہا، عجلی نے ان کی توثیق کی، ترمذی نے ان کی دو حدیثیں حسن کہیں، اور ابن خزیمہ نے ان کی ایک حدیث صحیح قرار دی۔
وأخرجه ابن حبان (7134) عن أحمد بن الحسين بن عبد الجبار، عن عبد الله بن الرومي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (7134) نے احمد بن حسین بن عبدالجبار عن عبد اللہ بن رومی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (1) یہ سند مرثد کی وجہ سے حسن ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مرثد (ابن عبد اللہ زمانی یا ذماری): اگرچہ ان سے صرف ان کے بیٹے مالک نے روایت کی ہے، لیکن وہ تابعی ہیں، ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا اور ان کی حدیث کو صحیح کہا، عجلی نے ان کی توثیق کی، ترمذی نے ان کی دو حدیثیں حسن کہیں، اور ابن خزیمہ نے ان کی ایک حدیث صحیح قرار دی۔
وأخرجه ابن حبان (7134) عن أحمد بن الحسين بن عبد الجبار، عن عبد الله بن الرومي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (7134) نے احمد بن حسین بن عبدالجبار عن عبد اللہ بن رومی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5549 سے ماخوذ ہے۔