أخبرني أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا أبو خليفة، حدثنا محمد بن سَلَّام الجُمَحي، حدثنا أبو عُبيدة مَعْمَر بن المثنَّى قال: أبو ذرٍّ الغفاريُّ جُندُب بن جُنادة بن سفيان بن عُبيد بن حَرَام. قال ابن سَلّام: ويقال: اسمُه بُرَير (1).
حافظ طلحہ بابر
ابو عبیدہ معمر بن مثنیٰ بیان کرتے ہیں کہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا نام و نسب جندب بن جنادہ بن سفیان بن عبید بن حرام ہے۔ ابن سلام کہتے ہیں کہ ایک قول کے مطابق ان کا نام بریر ہے۔
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، قال: أبو ذرٍّ جُندُب بن جُنَادة بن قيس بن عَمرو بن صُعَير بن حَرَام بن غِفَار، وأمُّه رَمْلةُ بنت وَقِيعة (2) بن غِفَار (3). وأما ذكرُ بُرَير (4)، فقد رُوي أنَّ النبي ﷺ سمّاه به:
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ عنہ کا نام و نسب جندب بن جنادہ بن قيس بن عمرو بن صعير بن حرام بن غفار ہے، اور ان کی والدہ رملہ بنت وقیعہ بن غفار تھیں۔
اور جہاں تک ان کے نام بریر کا ذکر ہے، تو یہ روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں اس نام سے پکارا تھا۔
اور جہاں تک ان کے نام بریر کا ذکر ہے، تو یہ روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں اس نام سے پکارا تھا۔
حدَّثناهُ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلحان، حدثنا يحيى بن بُكير، حدثنا اللّيثُ، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن أبي هلال، عن زيد بن أسلَمَ: أن رسول الله ﷺ قال لأبي ذرٍّ: "كيف بك يا بُريرُ (5) "في حديثٍ طويل (6).
حافظ طلحہ بابر
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے بریر! تمہارا کیا حال ہوگا؟“ یہ ایک طویل حدیث کا حصہ ہے۔