کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق المُزَني، حدثنا مصعب بن عبد الله، قال: عبد الله بن الأرقم بن عبد يَغُوثَ بن أُهَيب بن عبد مناف بن زُهْرَةَ، أمُّه عَمْرةُ بنت الأرقم بن هاشم بن عبد مَناف، وكان قد عَمِي قبل وفاته، تُوفي سنة خمس وثلاثين (1).
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ارقم بن عبد یغوث بن اہیب بن عبد مناف بن زہرہ (ان کا نسب ہے)، ان کی والدہ عمرہ بنت ارقم بن ہاشم بن عبدمناف تھیں۔ وہ اپنی وفات سے پہلے نابینا ہو گئے تھے، اور پینتیس ہجری میں ان کی وفات ہوئی۔
أخبرني أحمد بن يعقوب الثّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستري، حدثنا خليفة بن خَيّاط، فذكر نسبة عبد الله بن الأرقم، وكان عبد الله بن الأرقم كاتبًا للنبي ﷺ وأبي بكر وعمر ﵄ (2).
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط نے عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کا نسب بیان کیا اور کہا کہ عبداللہ بن ارقم، نبی کریم ﷺ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے کاتب تھے۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد البيهقي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثنا عبد العزيز بن أبي سَلَمة الماجِشُون، عن عبد الواحد بن أبي عون، عن القاسم بن محمد، عن عبد الله بن عمر، قال: أتى النبي ﷺ كتابُ رجُلٍ، فقال لعبد الله بن الأرقم: "أجِبْ عنّي"، فكتبَ جَوابَه، ثم قرأه عليه، فقال: "أصبتَ وأحسنتَ، اللهمَّ وَفِّقْه"، فلما ولي عمر كان يُشاوِرُه (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5441 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5441 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
قاسم بن محمد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ کے پاس ایک شخص کا خط آیا، تو آپ ﷺ نے عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”میری طرف سے جواب لکھو۔“ تو انہوں نے اس کا جواب لکھا، پھر اسے آپ ﷺ کو پڑھ کر سنایا۔ آپ ﷺ نے یہ دعا دی: «أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ، اللَّهُمَّ وَفِّقْهُ» ”تم نے درست لکھا اور بہت اچھا کیا، اے اللہ! اسے توفیق عطا فرما۔“ پھر جب عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو وہ ان سے مشورہ کیا کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو زكريا العَنبَري، حدثنا الحسن بن علي بن نصر، حدثنا الزُّبير بن بَكّار، قال: كان عبد الله بن الأرقم بن عبد يَغُوثَ على بيت المال في زمن عُمر، وصدرًا من ولاية عثمان إلى أن توفي، وكانت له صحبةٌ (1).
حافظ طلحہ بابر
زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ارقم بن عبد یغوث، عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اور عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں اپنی وفات تک بیت المال کے نگران رہے۔ اور انہیں شرفِ صحابیت حاصل تھا۔
أخبرنا محمد بن علي الصَّنْعاني بمكة، حادثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبري، أخبرنا عبد الرزاق، عن ابن جُريج، عن أيوب بن موسى، عن هشام بن عُروة، عن أبيه، عن عبد الله بن الأرقم قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا أُقيمت الصلاةُ وبأحدكم الغائطُ، فليبدأ بالغائطِ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب عبد الله بن زيد بن عبد رَبِّه الأنصاري صاحبِ الأذان
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب عبد الله بن زيد بن عبد رَبِّه الأنصاري صاحبِ الأذان
حافظ طلحہ بابر
ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز کھڑی ہو جائے اور تم میں سے کسی کو قضائے حاجت کی ضرورت ہو، تو اسے چاہیے کہ پہلے قضائے حاجت سے فارغ ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔