المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَرْقَمِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 5529
أخبرني أحمد بن يعقوب الثّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستري، حدثنا خليفة بن خَيّاط، فذكر نسبة عبد الله بن الأرقم، وكان عبد الله بن الأرقم كاتبًا للنبي ﷺ وأبي بكر وعمر ﵄ (2).
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط نے عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کا نسب بیان کیا اور کہا کہ عبداللہ بن ارقم، نبی کریم ﷺ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے کاتب تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) وأسنده ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 4/ 337 عن أبي وائل شقيق بن سَلَمة: أنَّ عبد الله بن الأرقم كان كاتب النبي ﷺ وكاتب عمر بن الخطاب.
حوالہ / مصدر: (2) اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (4/ 337) میں ابو وائل شقیق بن سلمہ سے مسنداً بیان کیا ہے کہ: عبد اللہ بن ارقم نبی کریم ﷺ اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے کاتب تھے۔
حوالہ / مصدر: (2) اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (4/ 337) میں ابو وائل شقیق بن سلمہ سے مسنداً بیان کیا ہے کہ: عبد اللہ بن ارقم نبی کریم ﷺ اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے کاتب تھے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5529 سے ماخوذ ہے۔