کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوتا جب تک وہ تم سے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر محبت نہ کرے
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى وإسحاق بن إبراهيم وأبو بكر بن أبي شيبة، قالوا: أخبرنا جريرٌ، عن يزيد بن أبي زياد عن عبد الله بن الحارث، عن المُطلب بن ربيعة، قال: جاء العباسُ إلى رسول الله ﷺ وهو مُغضَبٌ، فقال: "ما شأنك؟ " فقال: يا رسول الله، ما لنا ولقُريشٍ، فقال: "ما لك ولهم؟ "، قال: يلقى بعضُهم بعضًا بوجوهٍ مشرقةٍ، فإذا لَقُونا لَقُونا بغير ذلك، قال: فغضبَ رسولُ الله ﷺ حتى استَدَرَّ عِرْقٌ بين عَينَيهِ، قال: فلما أسفَرَ عنه، قال: "والذي نفسُ محمدٍ بيدِه، لا يدخُلُ قلب امرئٍ الإيمانُ حتى يُحبّكم الله ولرسوله"، قال: ثم قال: "ما بالُ رجالٍ يُؤذُونَني في العباس، عمُّ الرجل صنُو أبيه" (1).
هذا حديث رواه إسماعيل بن أبي خالد عن يزيد بن أبي زياد، ويزيدُ وإن لم (1) يُخرجاه، فإنه أحدُ أركان الحديث في الكوفيين.
هذا حديث رواه إسماعيل بن أبي خالد عن يزيد بن أبي زياد، ويزيدُ وإن لم (1) يُخرجاه، فإنه أحدُ أركان الحديث في الكوفيين.
حافظ طلحہ بابر
مطلب بن ربیعہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس غصے کی حالت میں آئے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”آپ کو کیا ہوا؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارا اور قریش کا کیا معاملہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپ کا اور ان کا کیا معاملہ ہے؟“ انہوں نے کہا: وہ آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کھلے اور ہشاش بشاش چہروں کے ساتھ ملتے ہیں، لیکن جب ہم سے ملتے ہیں تو ان کا رویہ ویسا نہیں ہوتا (بلکہ بے رخی دکھاتے ہیں)۔ راوی کہتے ہیں: اس پر رسول اللہ ﷺ کو اس قدر غضب آیا کہ آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیان والی رگ ابھر آئی۔ پھر جب آپ کا غصہ کم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! کسی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تم سے محبت نہ کرے۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان لوگوں کا کیا حال ہے جو مجھے عباس کے معاملے میں اذیت دیتے ہیں، آدمی کا چچا اس کے باپ کی طرح ہی ہوتا ہے۔“
یہ حدیث اسماعیل بن ابی خالد نے یزید بن ابی زیاد سے روایت کی ہے، اور یزید کی حدیث اگرچہ شیخین نے روایت نہیں کی، لیکن وہ کوفیوں میں حدیث کے ارکان (بڑے راویوں) میں سے ایک ہیں۔
یہ حدیث اسماعیل بن ابی خالد نے یزید بن ابی زیاد سے روایت کی ہے، اور یزید کی حدیث اگرچہ شیخین نے روایت نہیں کی، لیکن وہ کوفیوں میں حدیث کے ارکان (بڑے راویوں) میں سے ایک ہیں۔
حدَّثَناه أبو عمرو عثمان أحمد بن السَّمّاك الزاهد ببغداد، حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن يزيد بن أبي زياد، عن عبد الله بن الحارث، عن العباس بن عبد المطّلب، قال: قلتُ: يا رسول الله، إنَّ قريشًا إذا لقي بعضُها بعضًا لَقُوها ببِشْرٍ حَسَن، وإذا لَقُونا لَقُونا بوجوهٍ لا نَعرفُها، قال: فغَضِبَ رسولُ الله ﷺ غضبًا شديدًا، وقال: "والذي نفسُ محمدٍ بيده، لا يَدخُلُ قلب رجلٍ الإيمانُ حتى يُحبَّكم الله ولرسوله" (1). قد ذكرتُ في مناقب الحسن والحسين ﵄ طرفًا في "فضائل أهل بيتِ رسول الله ﷺ"، وبيَّنتُ عِلل هذا الحديث بذكر المُطّلب بن ربيعة، ومن أسقَطَه من الإسناد، فأَغنى ذلك عن إعادته في هذا المَوضِع.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن حارث سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یقیناً قریش جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو خندہ پیشانی سے ملتے ہیں، اور جب ہم سے ملتے ہیں تو ایسے چہروں کے ساتھ ملتے ہیں جنہیں ہم نہیں پہچانتے (یعنی چہرے پھیر لیتے ہیں)۔ راوی کہتے ہیں: اس پر رسول اللہ ﷺ سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! کسی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تم سے محبت نہ کرے۔“
میں نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب کے تحت ”فضائل اہل بیت رسول اللہ ﷺ“ میں اس کا ایک حصہ ذکر کیا ہے، اور مطلب بن ربیعہ کے ذکر اور جس نے انہیں سند سے گرا دیا ہے، ان کا تذکرہ کر کے اس حدیث کی علل (خامیوں) کو واضح کر دیا ہے، لہٰذا اس مقام پر اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
میں نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب کے تحت ”فضائل اہل بیت رسول اللہ ﷺ“ میں اس کا ایک حصہ ذکر کیا ہے، اور مطلب بن ربیعہ کے ذکر اور جس نے انہیں سند سے گرا دیا ہے، ان کا تذکرہ کر کے اس حدیث کی علل (خامیوں) کو واضح کر دیا ہے، لہٰذا اس مقام پر اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، عن ثَور بن يزيد عن مَكحُول، عن سعيد بن المُسيّب، أنه قال: لَلْعبّاسُ بن عبد المُطّلب خيرُ هذه الأمة، وارثُ النبيِّ وعمُّه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5434 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5434 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
مکحول سعید بن مسیب سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اس امت کے بہترین فرد، نبی کریم ﷺ کے وارث اور آپ کے چچا ہیں۔
أخبرني أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعبة، عن عمرو بن مُرة، قال: سمعت ذكوان أبا صالح [يُحدِّث عن صُهيب مولى العباس] (3) قال: أرسلني العباسُ ابن عبد المطلب إلى عثمان، فأتيتُه فإذا هو يُغدِّي الناسَ، فَدَعَوتُه، فأتاهُ، فقال: أفلَحَ الوجهُ (1) أبا الفضل، فقال: ووجهُك يا أمير المؤمنين، فقال: ما زِدتُ على أن أتاني رسولُك وأنا أُغدِّي، فغَدَّيتُهم ثم أقبلْتُ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5435 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5435 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابو صالح ذکوان سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے غلام صہیب سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے مجھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا، میں ان کے پاس آیا تو وہ اس وقت لوگوں کو کھانا کھلا رہے تھے۔ میں نے انہیں بلایا، تو وہ ان (عباس رضی اللہ عنہ) کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اے ابو الفضل! آپ کا چہرہ کامیاب و کامران رہے۔“ تو انہوں نے فرمایا: ”اور آپ کا چہرہ بھی، اے امیر المؤمنین!“ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بس اتنی تاخیر ہوئی کہ جب آپ کا قاصد میرے پاس آیا تو میں کھانا کھلا رہا تھا، میں نے انہیں کھانا کھلایا اور پھر (فوراً آپ کی طرف) آ گیا۔“
أخبرني أبو الحسين محمد بن محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن إسحاق الثقفي، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا جَرِير، عن عمرو بن ثابت، قال: دخل رجلٌ على الحُسين بن عليٍّ وهو يأكُلُ، فقال: ادْنُ فكُل، قال: إني قد أكلتُ، قال: عندَ مَن؟ قال: عندَ ابن عباس، قال: أما إن أباهُ كان سيِّدَ قُريشٍ (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5436 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5436 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عمرو بن ثابت سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک شخص سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس آیا جبکہ وہ کھانا کھا رہے تھے، تو انہوں نے فرمایا: ”قریب آؤ اور کھاؤ۔“ اس نے کہا: میں کھا چکا ہوں۔ انہوں نے پوچھا: ”کس کے پاس؟“ اس نے کہا: ابن عباس (رضی اللہ عنہما) کے پاس۔ تو انہوں نے فرمایا: ”سن لو! بیشک ان کے والد قریش کے سردار تھے۔“
حدثنا أبو علي الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الله البَيروتي، حدثنا محمد بن عُزيز، حدثني سَلامة بن رَوْح، عن عُقَيل بن خالد، عن ابن شهاب، قال: قال عبد الله بن ثَعلَبة: قال رسول الله ﷺ: "أَوْصاني اللهُ بذِي القُربَى، وأَمَرني أن أبدأ بالعباس" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5437 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5437 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے قرابت داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت فرمائی ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں (اس کی) ابتدا عباس رضی اللہ عنہ سے کروں۔“