المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
اسْتِمَاعُ النَّبِيِّ قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے قرآن سننا
حدیث نمبر: 5481
أخبرني أبو الحسن محمد بن عبد الله العُمَري، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا أبو عَمّار، حدثنا الفضل بن موسى، عن الأعمش، قال: كان شَقيقٌ يَذكُر صحابة النبيِّ ﷺ، فلم يذكر ابن مسعودٍ، فقلت له: لا أراك تذكرُ ابن مسعود؟! قال: ذاك رجلٌ لا أُفضِّلُ عليه أحدًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5395 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
اعمش بیان کرتے ہیں کہ شقیق (ابو وائل) نبی کریم ﷺ کے صحابہ کا تذکرہ کر رہے تھے مگر انہوں نے ابنِ مسعود کا ذکر نہیں کیا، میں نے ان سے کہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ ابنِ مسعود کا تذکرہ نہیں کر رہے؟! انہوں نے جواب دیا: ”وہ ایسی شخصیت ہیں جن پر میں کسی کو فضیلت نہیں دیتا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. شقيق: هو ابن سَلَمة أبو وائل، والأعمش: هو سليمان بن مِهران، وأبو عمار: هو الحسين بن حُريث، ومحمد بن إسحاق: هو ابن خُزيمة.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
تعینِ راوی: "شقیق" سے مراد ابن سلمہ ابو وائل ہیں، "اعمش" سلیمان بن مہران ہیں، "ابو عمار" حسین بن حریث ہیں، اور "محمد بن اسحاق" سے مراد ابن خزیمہ ہیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
تعینِ راوی: "شقیق" سے مراد ابن سلمہ ابو وائل ہیں، "اعمش" سلیمان بن مہران ہیں، "ابو عمار" حسین بن حریث ہیں، اور "محمد بن اسحاق" سے مراد ابن خزیمہ ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5481 سے ماخوذ ہے۔