کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: مہمان کی ضیافت اور مسکین کو کھلانے وغیرہ کے ذریعے مال کو پاک کرنے کا بیان
حدَّثنا أبو النَّضر محمد بن محمد الفقيه وأبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل المُقرئ، قالا: حدَّثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدَّثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدَّثنا خالد بن يزيد بن أبي مالك، عن أبيه، عن عطاء بن أبي رباح، عن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، عن أبيه، عن رسول الله ﷺ، أنه قال: "يا ابنَ عَوف، إنك من الأغنياء، ولن تدخُلَ الجنةَ إِلَّا زَحْفًا، فأقرضِ الله يُطلِقُ قَدَميك" قال ابن عوف: يا رسول الله، فما الذي أُقرِضُ الله؟ قال: "تَتبرّأُ مما أنتَ فيه" قال: يا رسول الله، من كلَّه أَجْمَعَ؟ قال: "نعم"، فخرج ابن عوف وهو يَهُمُّ بذلك، فأرسل إليه رسولُ الله ﷺ، فقال: "أتاني جبريلُ، فقال: مُرِ ابنَ عوفٍ فليُضِفِ الضَّيف، وليُطعِمِ المسكينَ، وليُعطِ السائلَ، ويَبدأْ بمن يَعُولُ، فإنه إذا فعل ذلك كان تَزْكية ما هو فيه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5358 - خالد بن يزيد ضعفه جماعة
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5358 - خالد بن يزيد ضعفه جماعة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے ابنِ عوف! تم مالدار لوگوں میں سے ہو اور تم جنت میں گھسٹ کر داخل ہو گے، پس اللہ کو قرض دو (اس کی راہ میں خرچ کرو) وہ تمہارے قدموں کو سبک کر دے گا۔“ ابن عوف نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں اللہ کو کیا قرض دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے پاس جو کچھ ہے اس سے دستبردار ہو جاؤ۔“ انہوں نے پوچھا: کیا سب کا سب؟ فرمایا: ”ہاں۔“ ابن عوف اسی ارادے سے باہر نکلے ہی تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلا بھیجا اور فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل آئے اور کہا: ابن عوف کو حکم دیں کہ وہ مہمان نوازی کریں، مسکین کو کھانا کھلائیں، مانگنے والے کو عطا کریں اور (اخراجات کی) ابتدا اپنے اہل و عیال سے کریں، کیونکہ جب وہ ایسا کریں گے تو یہ ان کے بقیہ مال کی پاکیزگی کا ذریعہ بن جائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدَّثنا إبراهيم بن عبد الله، حدَّثنا قريش بن أنس، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "خيرُكم خيرُكم لأهلي مِن بَعدي". قال قُريشٌ: فحدثني محمد بن عمرو، عن أبي سلمة: أنَّ أباه أوصى لأمهات المؤمنين بحديقةٍ بيعت بعدَه بأربعين ألف دينارٍ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وله شاهدٌ صحيح على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5359 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وله شاهدٌ صحيح على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5359 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد تم میں سے بہترین وہ ہے جو میرے اہل و عیال کے لیے بہتر ثابت ہو۔“ قریش بیان کرتے ہیں کہ محمد بن عمرو نے مجھے بتایا کہ ان کے والد (عبد الرحمن بن عوف) نے امہات المؤمنین کے لیے ایک باغ کی وصیت فرمائی تھی جو ان کے بعد چالیس ہزار دینار میں فروخت ہوا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک صحیح شاہد روایت شیخین کی شرط پر موجود ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک صحیح شاہد روایت شیخین کی شرط پر موجود ہے۔
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدَّثنا عبد الله بن يوسف التِّنِّيسي، حدَّثنا بكر بن مُضَر، حدَّثنا صَخْر بن عبد الله بن حَرْمَلة، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن حدثه قال: دخلتُ على عائشة فقالت لي: كان رسولُ الله ﷺ يقول لي: "أمرُكنَّ مما يُهِمُّني بعدي، ولن يَصبِرَ عليكُنَّ إِلَّا الصابرون"، ثم تقولُ: فسَقَى الله أباك من سَلسَبيل الجنةِ. وكان عبد الرحمن بن عوف قد وَصَلَهنّ بمالٍ، فبيع بأربعين ألفًا (1). ذكرُ مناقب عبد الله بن مسعود ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5360 - صخر بن عبد الله صدوق لم يخرجا له
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5360 - صخر بن عبد الله صدوق لم يخرجا له
حافظ طلحہ بابر
ابوسلمہ بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ مجھ سے فرمایا کرتے تھے: ”تمہارا معاملہ ان چیزوں میں سے ہے جو میرے بعد میرے لیے باعثِ فکر ہے، اور تمہارے ساتھ (حسنِ سلوک پر) وہی ثابت قدم رہیں گے جو صابر ہوں گے“، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: اللہ تمہارے والد کو جنت کے سلسبیل سے سیراب کرے، کیونکہ عبد الرحمن بن عوف نے ان (امہات المؤمنین) کے لیے مال بھیجا تھا جو چالیس ہزار میں فروخت ہوا۔