المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
تَزْكِيَةُ الْمَالِ بِإِضَافَةِ الضَّيْفِ وَإِطْعَامِ الْمِسْكِينِ وَغَيْرِهِمَا باب: مہمان کی ضیافت اور مسکین کو کھلانے وغیرہ کے ذریعے مال کو پاک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5443
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدَّثنا عبد الله بن يوسف التِّنِّيسي، حدَّثنا بكر بن مُضَر، حدَّثنا صَخْر بن عبد الله بن حَرْمَلة، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن حدثه قال: دخلتُ على عائشة فقالت لي: كان رسولُ الله ﷺ يقول لي: "أمرُكنَّ مما يُهِمُّني بعدي، ولن يَصبِرَ عليكُنَّ إِلَّا الصابرون"، ثم تقولُ: فسَقَى الله أباك من سَلسَبيل الجنةِ. وكان عبد الرحمن بن عوف قد وَصَلَهنّ بمالٍ، فبيع بأربعين ألفًا (1). ذكرُ مناقب عبد الله بن مسعود ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5360 - صخر بن عبد الله صدوق لم يخرجا لهحافظ طلحہ بابر
ابوسلمہ بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ مجھ سے فرمایا کرتے تھے: ”تمہارا معاملہ ان چیزوں میں سے ہے جو میرے بعد میرے لیے باعثِ فکر ہے، اور تمہارے ساتھ (حسنِ سلوک پر) وہی ثابت قدم رہیں گے جو صابر ہوں گے“، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: اللہ تمہارے والد کو جنت کے سلسبیل سے سیراب کرے، کیونکہ عبد الرحمن بن عوف نے ان (امہات المؤمنین) کے لیے مال بھیجا تھا جو چالیس ہزار میں فروخت ہوا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسنٌ من أجل صخر بن عبد الله بن حرملة، وقد روي من غير وجه عن عائشة، منها ما تقدَّم برقم (5439).
درجۂ حدیث: یہ حدیث (متن کے اعتبار سے) "صحیح" ہے، اور یہ سند صخر بن عبداللہ بن حرملہ کی وجہ سے "حسن" ہے۔ حضرت عائشہ سے یہ کئی سندوں سے مروی ہے، جن میں سے ایک نمبر (5439) پر گزر چکی۔
وأخرجه أحمد 41/ (24485) عن أبي سلمة منصور بن سَلَمة الخُزاعي، والترمذي (3749) عن قتيبة بن سعيد، كلاهما عن بكر بن مضر، به. وقال الترمذي في أكثر الروايات عنه: حسن صحيح غريب، وفي بعضها: حسنٌ غريب.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (41/ 24485) نے ابوسلمہ منصور بن سلمہ الخزاعی سے، اور ترمذی (3749) نے قتیبہ بن سعید سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں بکر بن مضر سے روایت کرتے ہیں۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اپنی اکثر روایات میں اسے "حسن صحیح غریب" اور بعض میں "حسن غریب" قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد (24893) من طريق عمر بن أبي سلمة، عن أبيه، عن عائشة، قالت: إنَّ رسول الله ﷺ أحنى عليَّ، فقال: "إنكن لأهَمُ ما أتركُ إلى وراء ظهري، والله لا يعطف عليكن إلا الصابرون أو الصادقون -"، وإسناده حسنٌ من أجل عمر بن أبي سلمة.
حوالہ / مصدر: امام احمد (24893) نے عمر بن ابی سلمہ کے طریق سے، وہ اپنے والد سے، اور وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھ پر شفقت فرمائی اور کہا: "تم (ازواج) میرے بعد چھوڑے جانے والوں میں سب سے اہم ہو، اللہ کی قسم تم پر صرف صابر اور سچے لوگ ہی شفقت کریں گے۔"
درجۂ حدیث: عمر بن ابی سلمہ کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث (متن کے اعتبار سے) "صحیح" ہے، اور یہ سند صخر بن عبداللہ بن حرملہ کی وجہ سے "حسن" ہے۔ حضرت عائشہ سے یہ کئی سندوں سے مروی ہے، جن میں سے ایک نمبر (5439) پر گزر چکی۔
وأخرجه أحمد 41/ (24485) عن أبي سلمة منصور بن سَلَمة الخُزاعي، والترمذي (3749) عن قتيبة بن سعيد، كلاهما عن بكر بن مضر، به. وقال الترمذي في أكثر الروايات عنه: حسن صحيح غريب، وفي بعضها: حسنٌ غريب.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (41/ 24485) نے ابوسلمہ منصور بن سلمہ الخزاعی سے، اور ترمذی (3749) نے قتیبہ بن سعید سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں بکر بن مضر سے روایت کرتے ہیں۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اپنی اکثر روایات میں اسے "حسن صحیح غریب" اور بعض میں "حسن غریب" قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد (24893) من طريق عمر بن أبي سلمة، عن أبيه، عن عائشة، قالت: إنَّ رسول الله ﷺ أحنى عليَّ، فقال: "إنكن لأهَمُ ما أتركُ إلى وراء ظهري، والله لا يعطف عليكن إلا الصابرون أو الصادقون -"، وإسناده حسنٌ من أجل عمر بن أبي سلمة.
حوالہ / مصدر: امام احمد (24893) نے عمر بن ابی سلمہ کے طریق سے، وہ اپنے والد سے، اور وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھ پر شفقت فرمائی اور کہا: "تم (ازواج) میرے بعد چھوڑے جانے والوں میں سب سے اہم ہو، اللہ کی قسم تم پر صرف صابر اور سچے لوگ ہی شفقت کریں گے۔"
درجۂ حدیث: عمر بن ابی سلمہ کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5443 سے ماخوذ ہے۔