کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے لیے ان کی صلہ رحمی پر دعا
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدَّثنا أبو سلمة منصور بن سَلَمة الخُزاعي، حدَّثنا عبد الله بن جعفر المَخْرَمي، حدثتني أم بكر بنت المِسوَر: أنَّ عبد الرحمن بن عوف باع أرضًا له بأربعين ألفَ دِينار، فقَسَمها في بني زُهْرة وفقراء المسلمين والمهاجرين وأزواج النبي ﷺ، فبعث إلى عائشة بمالٍ من ذلك، فقالت: مَن بعث بهذا المالِ؟ قلت: عبدُ الرحمن بنُ عوف، قال: وقَصَّ القصةَ، قالت: قال رسول الله ﷺ: "لا يَحنُو علَيكُن من بعدي إلَّا الصابرون"، سَقَى الله ابنَ عَوفٍ من سَلسَبيل الجنة (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5356 - ليس بمتصل
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5356 - ليس بمتصل
حافظ طلحہ بابر
ام بکر بنت مسور سے روایت ہے کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک زمین چالیس ہزار دینار میں فروخت کی، پھر اس رقم کو بنو زہرہ، فقراء المسلمین، مہاجرین اور نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات میں تقسیم کر دیا، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھی اس مال میں سے کچھ حصہ بھیجا تو انہوں نے پوچھا: ”یہ مال کس نے بھیجا ہے؟“ میں نے عرض کی: ”عبد الرحمن بن عوف نے“، اور انہیں پورا واقعہ سنایا، اس پر انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا: ”میرے بعد تمہارے ساتھ وہی حسنِ سلوک کریں گے جو صابر ہوں گے“، اللہ تعالیٰ ابنِ عوف کو جنت کے سلسبیل چشمے سے سیراب فرمائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدَّثنا يونس بن محمد وأحمد بن محمد الأزرقي، قالا: حدَّثنا إبراهيم بن سعد، عن محمد بن إسحاق، عن محمد بن عبد الرحمن بن عبد الله بن الحُصَين، عن (1) عوف بن الحارث، عن أم سَلَمة، قالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول لأزواجه: "إِنَّ الذي يَحنُو عليكم بَعدي هو الصادقُ البارُّ"، اللهمَّ اسقِ عبدَ الرحمن بنَ عوف من سَلسَبيل الجنة (2). فقد صحَّ الحديث عن عائشة وأم سلمة ﵄.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5357 - عن عائشة وأم سلمة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5357 - عن عائشة وأم سلمة
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی ازواج سے فرماتے ہوئے سنا: ”میرے بعد تمہارے ساتھ وہی حسنِ سلوک کرے گا جو سچا اور نیکوکار ہوگا۔“ (پھر انہوں نے دعا دی:) ”اے اللہ! عبد الرحمن بن عوف کو جنت کے سلسبیل چشمے سے سیراب فرما۔“
یہ حدیث سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما دونوں سے صحیح ثابت ہے۔
یہ حدیث سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما دونوں سے صحیح ثابت ہے۔