أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدَّثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، قال: مات أبي بن كعب في خِلافة عمر بن الخطاب سنة اثنتين وعشرين (2).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عبد اللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی وفات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں سن 22 ہجری میں ہوئی۔
حدَّثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدَّثنا محمد بن عبد الله بن رُستَهْ، حدَّثنا سليمان بن داود، حدَّثنا محمد بن عمر، فذكر النَّسبَ بنحوه، وزاد: وشهد العقَبةَ في السبعين من الأنصار، وكان يكتُب لرسول الله ﷺ الوحيَ، وقد اختُلِف في وقت وفاته، فقيل: إنه مات في خلافة عمر سنة اثنتين وعشرين، وقيل: مات في خلافة عثمان سنة ثلاثين، وهذا أثبتُ الأقاويل، وذلك بأنَّ عثمان أَمَرَه بأن يجمَعَ القرآنَ (3).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر نے بھی اسی طرح کا نسب بیان کیا اور یہ اضافہ فرمایا کہ وہ ان ستر انصار میں شامل تھے جنہوں نے بیعتِ عقبہ میں شرکت فرمائی تھی، اور وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے وحی لکھا کرتے تھے، ان کی وفات کے وقت میں اختلاف پایا جاتا ہے، چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ وہ سیدنا عمر کے دورِ خلافت میں سن 22 ہجری میں فوت ہوئے، جبکہ ایک قول کے مطابق ان کی وفات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں سن 30 ہجری میں ہوئی، اور یہی قول زیادہ مستند ہے کیونکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں قرآن کریم جمع کرنے کا حکم دیا تھا۔
حدثني علي بن حَمْشاذ، حدَّثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، قال: حدثني أبي، حدَّثنا هُشَيم، عن يونس بن عُبيد، ومُبارك، عن الحسن، حدَّثنا عُتَي السَّعْدي قال: رأيتُ أبَي بن كعب أبيضَ الرأس واللِّحية، لا يَخضِبُ (1).
حافظ طلحہ بابر
عتی سعدی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان کے سر اور داڑھی کے بال بالکل سفید تھے اور وہ خضاب (رنگ) نہیں لگاتے تھے۔