أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنْعاني بمكة، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم، حدَّثنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جُريج، أخبرني عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، أنَّ محمد بن الأسود بن خلف أخبره، أنَّ أباه الأسودَ حدثه: أنه رأى النبيَّ ﷺ يُبايعُ الناسَ يومَ الفتح، قال: فجلس عند قَرْن (2) دار ابن سَمُرة، قال الأسود: فرأيتُ النبيَّ ﷺ جلسَ فجاءه الناسُ الصغار والكبار والنساء، فبايَعُوه على الإسلام والشهادة. فقلتُ: وما الشهادةُ؟ قال: على الإيمان بالله، وشهادةِ أن لا إله إلا الله (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5283 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5283 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسود بن خلف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فتحِ مکہ کے دن نبی کریم ﷺ کو لوگوں سے بیعت لیتے ہوئے دیکھا، انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ دارِ ابن سمرہ کے ایک گوشے کے پاس تشریف فرما تھے، سیدنا اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ تشریف فرما ہوئے تو آپ کے پاس چھوٹے، بڑے اور عورتیں سب حاضر ہوئے اور ان سب نے اسلام اور شہادت پر آپ کی بیعت کی۔ میں نے پوچھا کہ شہادت سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے بتایا: اللہ پر ایمان لانے اور اس بات کی گواہی دینے پر کہ ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں“۔
قال (1): أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن ابن خُثَيم، عن محمد بن الأسود بن خَلَف، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ أخذ حُسينًا فقبَّلَه، ثم أقبَل عليهم فقال: "إِنَّ الولدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ مَجْهَلَةٌ مَحْزَنة" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسود بن خلف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو گود میں لیا اور ان کا بوسہ لیا، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا: «إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ مَجْهَلَةٌ مَحْزَنَةٌ» ”بے شک اولاد (انسان کے لیے) بخل، بزدلی، جہالت اور غم کا سبب بنتی ہے۔“
حدثني أبو أحمد الحافظ، حدَّثنا محمد بن سليمان، حدَّثنا محمد بن إسماعيل قال: محمد بن الأسود بن خَلَف بن عبد يَغُوثَ القُرشي، عِدادُه في المَكِّيين (3). ذكرُ مناقب خالد بن الوليد ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
محمد بن اسماعیل بیان کرتے ہیں کہ محمد بن اسود بن خلف بن عبد یغوث قریشی کا شمار اہلِ مکہ میں ہوتا ہے۔