أخبرني عبد الله بن محمد بن زياد العَدْل، حدثنا محمد بن إسحاق، قال: حدثني محمد بن عُزَيز الأَيلي إملاءً عليَّ، قال: حدثني سَلَامة بن رَوْح، عن عُقَيل بن خالد، عن ابن شِهاب، عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله ﷺ: "كم من ضعيفٍ مُتضَعَّفٍ ذي طِمْرَين، لو أقسمَ على الله لأبَرَّ قَسَمَه، منهم البراءُ بن مالك". وإنَّ البراء لقي زَحْفًا من المشركين، وقد أَوجَعَ المشركون في المسلمين، فقالوا: يا بَراءُ، إِنَّ رسول الله ﷺ قال: "إنك لو أقسمتَ على الله لأبَرَّك"، فأقسِمْ على ربِّك، فقال: أقسمتُ عليك يا ربِّ لَمَا مَنَحْتَنا أكتافَهم، ثم التَقَوا على قَنْطرة السُّوس، فأوجَعُوا في المسلمين، فقالوا له: يا بَراءُ، أقسِمْ على رَبِّك، فقال: أقسمتُ عليك يا ربِّ لَمَا مَنَحْتَنا أكتافَهم، وألحَقْتَني بنبيّي ﷺ، فمُنِحُوا أكتافَهم، وقُتل البراءُ شهيدًا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5274 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5274 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بہت سے کمزور اور خستہ حال لوگ ایسے ہیں جن کے پاس صرف دو پرانی چادریں ہوتی ہیں، لیکن اگر وہ اللہ پر (بھروسہ کر کے کسی بات کی) قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم کو ضرور پورا فرما دے، براء بن مالک بھی انہی میں سے ہیں“، چنانچہ جب براء رضی اللہ عنہ کا مشرکین کے ایک لشکر سے سامنا ہوا اور مشرکوں نے مسلمانوں کو سخت جانی نقصان پہنچایا، تو صحابہ نے کہا: اے براء! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر تم اللہ پر قسم کھا لو تو وہ اسے پورا فرمائے گا، لہٰذا اپنے رب پر قسم کھاؤ (کہ ہمیں فتح ملے)؛ تو براء رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے میرے رب! میں تجھ پر قسم کھاتا ہوں کہ تو ہمیں دشمن کی پیٹھ دکھا دے (یعنی فتح عطا فرما)“، پھر جب وہ قنطرہ سوس (سوس کے پل) پر ملے اور وہاں پھر مسلمانوں کو سخت تکلیف پہنچی، تو لوگوں نے دوبارہ کہا: اے براء! اپنے رب پر قسم کھاؤ؛ براء رضی اللہ عنہ نے دعا کی: ”اے میرے رب! میں تجھ پر قسم کھاتا ہوں کہ تو ہمیں ان کی پیٹھ دکھا دے اور مجھے میرے نبی ﷺ سے ملا دے (یعنی شہادت عطا فرما)“، چنانچہ دشمن کو شکست ہوئی اور براء رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا أزهَرُ بن جَميل، حدثنا عمر بن حفص، عن ثابت، عن أنس بن مالك، قال: لما كان يومُ العَقَبة بفارسَ، وقد زُوِيَ الناسُ قام البراءُ بنُ مالك، فرَكِب فرسَه، وهي توَجْى (1)، ثم قال لأصحابه: بئسَ ما عَوّدتُم أقرانَكم عليكم، فحَمَل على العدوِّ، فَفَتَح اللهُ على المسلمين، واستُشهد البراءُ يومئذٍ (2). قال أبو عِمران موسى بن هارون: إنَّ البراء استُشهِد يوم تُستَر، وهي من فارس، وإنما استُشهد البراء بن مالك سنة إحدى وعشرين من الهجرة. ذكرُ النُّعمان بن مُقَرِّن، وهو النُّعمان بن عمرو بن مُقرِّن ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5275 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5275 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب فارس میں جنگِ عقبہ کا دن تھا اور لوگ بکھر گئے تھے، تو براء بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے جبکہ وہ (زخم کی وجہ سے) لنگڑا رہا تھا، پھر اپنے ساتھیوں سے کہا: ”تم نے اپنے دشمنوں کو اپنے اوپر کتنا برا عادی بنا لیا ہے (کہ وہ تم پر غالب آ رہے ہیں)“، پھر انہوں نے دشمن پر بھرپور حملہ کیا، یہاں تک کہ اللہ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور براء رضی اللہ عنہ اس دن شہید ہو گئے۔ موسیٰ بن ہارون کہتے ہیں: براء بن مالک مقامِ تُستَر (فارس) میں سنہ 21 ہجری میں شہید ہوئے تھے۔
نعمان بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔
نعمان بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔