ذُكر عن ابن سِيرِين أنه قال: كتب عمرُ بن الخطاب: أن لا تَستعمِلوا البراءَ بنَ مالك على جيشٍ من جُيوش المسلمين، إنه مَهلَكةٌ من المَهالك، يُقدِمُ بهم (2).
حافظ طلحہ بابر
ابن سیرین سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (اپنے گورنروں کو) لکھا: ”تم براء بن مالک کو مسلمانوں کے کسی لشکر کا امیر (سپہ سالار) مقرر نہ کرنا، کیونکہ وہ (بہادری کے معاملے میں) ہلاکتوں میں سے ایک ہلاکت ہیں، وہ لوگوں کو لے کر (ایسے جوکھم میں) جا پڑتے ہیں (جہاں ہلاکت کا اندیشہ ہوتا ہے)۔ (یعنی نہایت بے خوف اور انتہائی جرأت مند ہیں، اور اپنی اسی بے باکی کی وجہ سے لشکر کو بہت خطرناک مہمات میں لے جاتے ہیں)۔
أخبرنا أحمد بن عثمان بن يحيى المُقرئ ببغداد، حدثنا أبو قِلابةَ، حدثنا أزْهَرُ بن سعد، حدثنا عبد الله بن عَوْن، عن ثُمامة بن أنس، عن أنس بن مالك: أنه دخل على أخيه البَراء، وهو مُستَلْقٍ واضعًا إحدى رجليه على الأخرى يَتغنّى، فنهاه، فقال: أترهَبُ أن أموتَ على فِراشي، وقد تَفرّدتُ بقتل مئةٍ من الكفار، سوى مَن شَرِكَني فيه الناسُ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5272 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5272 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے بھائی براء کے پاس آئے جبکہ وہ چت لیٹے ہوئے ایک پاؤں دوسرے پر رکھے گنگنا رہے تھے، انس رضی اللہ عنہ نے انہیں منع کیا تو براء رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا تمہیں ڈر ہے کہ میں اپنے بستر پر مروں گا؟ جبکہ میں نے تنہا سو کافروں کو قتل کیا ہے، ان کے علاوہ جن کے قتل میں دوسرے لوگ بھی میرے شریک تھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔